صحیح مسلم — حدیث #۹۳۷۶

حدیث #۹۳۷۶
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً - قَالَ جَابِرٌ - لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلاَ أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ قَطُّ ‏.‏
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون ( یعقوب ) بن ابی سلمہ سے اور انھوں نے ( عبدالرحمان ) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر د عا پڑھتے : وجهت وجهيي اس میں ( کے بجائے ) " انا من المسلمين " اور میں اطاعت وفرمانبرداری میں اولین ( مقام پر فائز ) ہوں " کے الفاظ ہیں اور کہا : جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " کہتے اورصوره ( اس کی صورت گری کی ) کے بعد " فاحسن صوره " ( اس کو بہترین شکل وصورت عنایت فرمائی ) کے الفاظ کہے اور کہا جب سلام پھیرتے تو کہتے : " اللهم اغفرلي ما قدمت " اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا ۔ " حدیث کے آخر تک اور انھوں نے " تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان " کے الفاظ نہیں کہے ۔
راوی
It has been reported on the authority of Abu Zubair who heard Jabir b. 'Abdullah say
ماخذ
صحیح مسلم # ۶/۱۸۱۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۶: مسافروں کی نماز اور قصر
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث