صحیح مسلم — حدیث #۹۶۶۶

حدیث #۹۶۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ( عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ہشام نے ، انھوں نے ( اپنی بیوی ) فاطمہ ( بنت منذر بن زبیر بن عوام ) سے اور انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا ، چنانچہ میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آئی اور وہ ( ساتھ مسجد میں ) نماز پڑھ رہی تھیں ، میں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہوا وہ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے ہیں؟انھوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ تو میں نے پوچھا : کوئی نشانی ( ظاہر ہوئی ) ہے؟انھوں نے ( اشارے سے ) بتایا : ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کو بہت زیادہ لمبا کی حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی ، میں نے اپنے پہلو میں پڑی مشک اٹھائی اور اپنے سریا اپنے چہرے پر پانی ڈالنےلگی ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے توسورج روشن ہوچکا تھا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد ( حمد وثنا کے بعد ) ! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا مگر اب میں نے اپنی اس جگہ سے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے حتی ٰ کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھ لی ہیں ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ عنقریب ہے کہ عنقریب قبروں میں تمھاری مسیح دجال کی آزمائش کے قریب یا س جیسی آزمائش ہوگی ۔ ۔ ( فاطمہ نے کہا ) مجھے پتہ نہیں ، حضر ت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا ۔ اور تم میں سے ہر ایک کے پاس ( فرشتوں کی ) آمد ہو گی اور پوچھا جائے گا : تم اس آدمی کے بارے میں کیاجانتے ہو ؟ تومومن یا یقین رکھنے والا ۔ مجھے معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے کون سا لفظ کہا ۔ ۔ کہنے گا : وہ محمد ہیں ، وہ اللہ کے رسول ہیں ، ہمارےپاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے ان ( کی بات ) کوقبول کیا اور اطاعت کی ، تین دفعہ ( سوال وجواب ) ہوگا ۔ پھراُس سے کہاجائے گا : سوجاؤ ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتےہو ۔ ایک نیک بخت کی طرح سوجاؤ ۔ اور رہامنافق یا وہ جوشک وشبہ میں مبتلا تھا ۔ معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کو ن سا لفظ کہا ۔ تو وہ کہے گا : میں نہیں جانتا ، میں نے لوگوں کو کچھ کہتےہوئے سناتھا تو وہی کہہ دیا تھا ۔
راوی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۰/۲۱۰۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۰: استسقاء کی نماز
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث