صحیح مسلم — حدیث #۹۸۹۲

حدیث #۹۸۹۲
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، - وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ - عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الأُولَى ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّىْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا - قَالَ - وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي - قَالَ - فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ ‏.‏
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !زیادہ مال رکھنے والے اجر وثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں ( جو ہم نہیں کرسکتے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟بے شک ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے ، ہر دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے ۔ ہر دفعہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے ، ہردفعہ لا الٰہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور بُرائی سے ر وکنا صدقہ ہے اور ( بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے ) تمھارے عضو میں صدقہ ہے ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بتاؤ اگر وہ یہ ( خواہش ) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے ۔
راوی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۲/۲۳۲۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: جنازہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث