صحیح مسلم — حدیث #۹۹۸۴

حدیث #۹۹۸۴
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلاَّ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْخَيْرَ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ يَأْخُذْ مَالاً بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَمَنْ يَأْخُذْ مَالاً بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ‏"‏ ‏.‏
عیاض بن عبد اللہ بن سعد سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لو گوں کو خطبہ دیا اور فر ما یا : " نہیں اللہ کی قسم !لو گو!مجھے تمھا رے بارے کسی چیز کا ڈر نہیں سوائے دنیا کی اس زینت کے جو اللہ تعالیٰ تمھا رے لیے ظا ہر کرے گا ۔ ایک آدمی کہنے لگا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا خیر شر کو لے آئے گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھڑی بھر خا مو ش رہے پھر فر ما یا : " تم نے کس طرح کہا ؟ اس نے کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عرض کی تھی کیا خیر شر کو لا ئے گی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : " خیر خیر ہی کو لا تی ہے لیکن کیا وہ ( دنیا کی زیب و زینت فی ذاتہ ) خیر ہے ؟ وہ سب کچھ جو بہا ر لگا تی ہے ( جا نور کو ) اُپھا رے سے ما رڈا لتا ہے یا مو ت کے قریب کر دیتا ہے ایسے سبزہ کھا نے والے جا نور کے سوا جس نے کھا یا اور جب اس کی کو کھیں بھر گئیں ( وہ سیر ہو گیا ) تو مزید کھا نے کے بجا ئے ) اس نے سورج کا رخ کر لیا اور بیٹھ کر گو بر یا پیشاب کیا پھر جگا لی کی اور دوبارہ کھا یا تو ( اسی طرح ) جو انسا ن اس ( مال ) کے حق کے مطا بق مال لیتا ہے اس کے لیے اس میں بر کت دا ل دیا جا تی ہے اور جو انسان اس کے حق کے بغیر مال لیتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو کھا تا ہے لیکن سیر نہیں ہو تا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۲/۲۴۲۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: جنازہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death

متعلقہ احادیث