جہنم
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۷/۱۸۳۹
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي يُوقِدُونَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً . قَالَ " إِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ آدمیوں کی آگ جس کو وہ سلگاتے ہیں ایک جز ہے ستر جزوں میں سے جہنم کی آگ کا ( یعنی جہنم کی آگ میں اس آگ سے انہتر حصے زیادہ جلن اور تیزی ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ آگ دنیا ہی کی کافی تھی ( جلانے کو) آپ نے فرمایا وہ آگ اس آگ سے انہتر حصے زیادہ ہے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۷/۱۸۴۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَتُرَوْنَهَا حَمْرَاءَ كَنَارِكُمْ هَذِهِ لَهِيَ أَسْوَدُ مِنَ الْقَارِ " . وَالْقَارُ الزِّفْتُ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کیا تم جہنم کی آگ کو سرخ سمجھتے ہو جیسے دنیا کی آگ۔ وہ قار سے بھی زیادہ سیاہ ہے اور قار کو زفت کہتے ہیں ۔ (تارکول)