۹ حدیث
۰۱
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۰۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ، وَمَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏
"‏ مَا أَصْبَحَ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ صَاعٌ، وَلاَ أَمْسَى ‏"‏‏.‏ وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ‏.‏
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ جَو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ ایک دن میں خود آپ کے پاس جَو کی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا۔ میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ آل محمد پر کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں آئی کہ ایک صاع سے زیادہ کچھ اور موجود رہا ہو، حالانکہ آپ کے نو گھر تھے۔
۰۲
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۰۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ، وَالْقَبِيلَ فِي السَّلَفِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ہم نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے یہاں قرض میں رہن اور ضامن کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے اسود نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا ایک مقررہ مدت کے قرض پر اور اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی تھی۔
۰۳
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۰
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا‏.‏ فَأَتَاهُ فَقَالَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ‏.‏ فَقَالَ ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ‏.‏ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا، وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ‏.‏ قَالُوا كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ ـ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلاَحَ ـ فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف ( یہودی اسلام کا پکا دشمن ) کا کام کون تمام کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف دے رکھی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ( یہ خدمت انجام دوں گا ) چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ ایک یا دو وسق غلہ قرض لینے کے ارادے سے آیا ہوں۔ کعب نے کہا لیکن تمہیں اپنی بیویوں کو میرے یہاں گروی رکھنا ہو گا۔ محمد بن مسلمہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم اپنی بیویوں کو تمہارے پاس کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں جب کہ تم سارے عرب میں خوبصورت ہو۔ اس نے کہا کہ پھر اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اولاد کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں اسی پر انہیں گالی دی جایا کرے گی کہ ایک دو وسق غلے کے لیے رہن رکھ دیے گئے تھے تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہو گی۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے یہاں رہن رکھ سکتے ہیں۔ سفیان نے کہا کہ لفظ «لأمة» سے مراد ہتھیار ہیں۔ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے ( چلے آئے اور رات کو اس کے یہاں پہنچ کر ) اسے قتل کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔
۰۴
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏
"‏ الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ‏"‏‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔
۰۵
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ‏
"‏ الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا نے خبر دی، انہیں شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے۔ اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پئے وہی اس کا خرچ اٹھائے۔
۰۶
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مدت ٹھہرا کر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
۰۷
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۴
ابن ابو ملیکہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ‏.‏
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ( دو عورتوں کے مقدمہ میں ) لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا کہ ( اگر مدعی گواہ نہ پیش کر سکے ) تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔
۰۸
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۵
ابو وائل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ فَقَرَأَ إِلَى ‏{‏عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏.‏ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِيَّ وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَاهِدُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلاَ يُبَالِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى ‏{‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏.‏
ابو وائل سے روایت ہے کہ عبداللہ (بن مسعود) نے فرمایا: جس نے کسی کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائی وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کے لیے درج ذیل آیت نازل فرمائی:-"بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور ان کی قسموں کی قیمت پر معمولی منافع خریدتے ہیں... دردناک عذاب۔" (3.77) اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ ابو عبدالرحمٰن (یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ) تم سے کیا بیان کر رہے ہیں، ہم نے ان سے قصہ سنایا، اس پر انہوں نے کہا کہ اس نے سچ کہا ہے۔ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرا ایک دوسرے آدمی سے کنویں کے بارے میں کچھ جھگڑا ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو گواہ پیش کرو، ورنہ مدعا علیہ کو حلف اٹھانے کا حق ہے۔ میں نے کہا، 'مدعا علیہ کو جھوٹی قسم کھانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی کہ کسی کا مال ہڑپ کر لے وہ اللہ سے ملے گا، اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر وہ چیز نازل فرمائی جو اس کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘ اشعث نے پھر درج ذیل آیت کی تلاوت کی: ’’بے شک! جو لوگ اللہ کے عہد اور ان کی قسموں کی قیمت پر معمولی منافع خریدتے ہیں۔ . . (کرنا) . . ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ (3.77) (دیکھئے حدیث نمبر)
۰۹
صحیح بخاری # ۴۸/۲۵۱۶
ابو وائل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ فَقَرَأَ إِلَى ‏{‏عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏.‏ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِيَّ وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَاهِدُكَ أَوْ يَمِينُهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلاَ يُبَالِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالاً هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى ‏{‏وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے کسی کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائی وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کے لیے درج ذیل آیت نازل فرمائی:-"بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور ان کی قسموں کی قیمت پر معمولی منافع خریدتے ہیں... دردناک عذاب۔" (3.77) اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ ابو عبدالرحمٰن (یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ) تم سے کیا بیان کر رہے ہیں، ہم نے ان سے واقعہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اس نے سچ کہا۔ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرا ایک دوسرے آدمی سے کنویں کے بارے میں کچھ جھگڑا ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو گواہ پیش کرو، ورنہ مدعا علیہ کو حلف اٹھانے کا حق ہے۔ میں نے کہا، 'مدعا علیہ کو جھوٹی قسم کھانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی کہ کسی کا مال ہڑپ کر لے وہ اللہ سے ملے گا، اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو نازل فرمایا جو اس کی تصدیق کرتی ہے۔ جو لوگ اللہ کے عہد اور ان کی قسموں کی قیمت پر معمولی منافع خریدتے ہیں۔ . . (کرنا) . . ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ (3.77) (دیکھئے حدیث نمبر 546)