علم
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بارے میں میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں ۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے ( بھری ) مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان کی مجلس سے اچھی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں ، اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب جاتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میر قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبارئی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ، اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں ۔
۰۲
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ " وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَىَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا " .
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ " اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ۔
۰۳
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۰۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ " .
ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " جب بندہ ایک بالشت ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر بڑھ کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں ، اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہوں ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۰۸
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ، بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ فَقَالَ " سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " . قَالُوا وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ " .
(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : " چلتے رہو ، یہ جُمدان ہے ۔ مفردون 0لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے ) بازی لے گئے ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ( مرد ) اور اللہ کو یاد کرنے والی ( عورتیں ۔)
۰۵
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۰۹
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ " مَنْ أَحْصَاهَا " .
عمرو ناقد ، زُہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ، جس نے ان کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اللہ وتر ( طاق ) ہے ، وتر کو پسند کرتا ہے ۔ " اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : " جس نے ان کو شمار کیا ۔
۰۶
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . وَزَادَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، نیز ( ایوب نے ) ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ کے ننانوے ، ایک کم سو نام ہیں ، جس نے ان ( سب ) کو شمار کیا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ "" اور ہمام نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید یہ بیان کیا "" بےشک وہ ( اللہ ) طاق ہے ، طاق ہی کو پسند کرتا ہے ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلاَ يَقُلِ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ " .
عبدالعزیز بن صُہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو قطعیت کے ساتھ ( اصرار کرتے ہوئے ) دعا کرے اور یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے ، کیونکہ اللہ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلاَ يَقُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَتَعَاظَمُهُ شَىْءٌ أَعْطَاهُ " .
علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے ، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ . لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لاَ مُكْرِهَ لَهُ " .
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ۔ وہ دعا میں پختگی اور قطعیت سے کام لے کیونکہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے ، کوئی نہیں جو اسے مجبور کر سکے ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۴
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ مُتَمَنِّيًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان ( مصیبت ) کی وجہ سے ، جو اس پر نازل ہو ، موت کی تمنا نہ کرے ۔ اگر اسنے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے : اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۵
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - كِلاَهُمَا عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ " .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انہوں نے کہا : " کسی نقصان کی وجہ سے جو اسے پہنچے ۔ " ( نازل ہو نہیں کہا ۔)
۱۲
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۶
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ، يَوْمَئِذٍ حَىٌّ قَالَ أَنَسٌ لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ " . لَتَمَنَّيْتُهُ .
عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے ۔ ( نضر نے ) کہا : انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا : " تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے " تو میں موت کی تمنا کرتا ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فِي بَطْنِهِ فَقَالَ لَوْمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ .
عبداللہ بن ادریس نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس وقت ان کے پیٹ پر ( علاج کے لئے ) سات جگہ ( تپتی ہوئی دھات سے ) داغ لگائے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اگر یہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع فرمایا تھا ، تو میں اس ( موت ) کی دعا کرتا ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۸
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
سفیان بن عیینہ ، جریر بن عبدالحمید ، وکیع ، عبداللہ بن نمیر ، معتمر بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۱۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلاَ يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَإِنَّهُ لاَ يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلاَّ خَيْرًا " .
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، نہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص مر گیا تو اس کا عمل منقطع ہو گیا ( مزید عمل کی مہلت ختم ہو گئی ) اور مومن کی عمر اس کی بھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۰
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ، بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے ، اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۱
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ فَقَالَ " لَيْسَ كَذَلِكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
خالد بن حارث بجیمی نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زُرارہ سے ، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے نبی! کیا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ہم میں سے ہر شخص ( طبعا ) موت کو ناپسند کرتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات نہیں ہے ، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت ، اس کی رضامندی اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس ( ناشکرے اور متکبر ) سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۳
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
محمد بن بکر نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " .
علی بن مسہر نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے شریح بن بانی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے ۔ " ( ملاقات کا معاملہ اس کے بعد آئے گا ۔)
۲۱
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۵
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ .
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے شُریح بن بانی نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اسی ( گزشتہ روایت ) کے مانند ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۶
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحِ، بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . قَالَ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا . فَقَالَتْ إِنَّ الْهَالِكَ مَنْ هَلَكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ . فَقَالَتْ قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ وَتَشَنَّجَتِ الأَصَابِعُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ .
عبثر نے مطرف سے ، انہوں نے عامر سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ ( شریح بن ہانی نے ) کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی : ام المومنین! میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، اگر وہ اسی طرح ہے ( جس طرح وہ بیان کرتے ہیں ) تو ہم ہلاک ہو گئے ۔ تو انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے فرمایا : ہلاک ہونے والا واقعی وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ہلاک ہوا ، ( بتاؤ ) وہ کیا حدیث ہے؟ ( میں نے عرض کی : ) انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے " اور ہم میں ایسا کوئی نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو ، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا ، لیکن ( مفہوم کے اعتبار سے ) جس طرف تم گئے ہو وہ بات اس طرح نہیں بلکہ ( وہ اس طرح ہے کہ ) جب نگاہ اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہے اور سینے میں سانس اکھڑ رہی ہوتی ہے اور جلد پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو کر اکڑ جاتی ہیں تو اس وقت جو اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو ( اس وقت ) اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
۲۳
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۷
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ .
جریر نے مطرف سے اسی سند کے ساتھ عبثر کی حدیث کے مانند خبر دی ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۲۹
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ، - وَهُوَ التَّيْمِيُّ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا - أَوْ بُوعًا - وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
یحییٰ بن سعید اور ابن ابی عدی نے سلیمان تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں ۔
۲۷
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ " إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں " ذکر نہیں کیا ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلإٍ خَيْرٍ مِنْهُ وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَىَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَىَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے تو میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان لوگوں کی مجلس سے بہتر مجلس میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں پھیلے ہوئے دونوں ہاتھوں کی لمبائی جتنا ( فاصلہ ) اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطِيئَةً لاَ يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے ، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا ( بھی ) دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اس جیسی ایک برائی ہے یا ( چاہوں تو ) معاف کر دیتا ہوں ، جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کےپھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے ، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے ( اور ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابراہیم نے کہا : ہم سے حسب بن بشر نے ، ان کو وکیع نے یہی حدیث بیان کی ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۴
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ " .
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : " اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ملتی ہیں ، یا میں ( اس سے بھی ) زیادہ دیتا ہوں ۔
۳۱
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَادَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَىْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ " . قَالَ نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ لاَ تُطِيقُهُ - أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ - أَفَلاَ قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ .
محمد بن ابوعدی نے حمید سے ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک ایسے شخص کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، میں کہتا تھا : اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا : اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۶
حَدَّثَنَاهُ عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ " وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ .
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں حمید نے اسی سند کے ساتھ دعا کے ان الفاظ تک حدیث بیان کی : " ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا " اور اس سے اضافی بات بیان نہیں کی ۔
۳۳
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۷
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّعليه وسلم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " لاَ طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ " . وَلَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ .
حماد نے کہا : ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لےگئے ، وہ چوزے کی طرح ( لاغر ) ہو گیا تھا ، اس کے بعد حمید کی حدیث کے ہم معنی ہے ، مگر انہوں نے اس طرح کہا : " تم میں اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں " انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۳۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلاَئِكَةً سَيَّارَةً فُضْلاً يَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ - قَالَ - فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ . قَالَ وَمَاذَا يَسْأَلُونِي قَالُوا يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ . قَالَ وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا لاَ أَىْ رَبِّ . قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا وَيَسْتَجِيرُونَكَ . قَالَ وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي قَالُوا مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ . قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا لاَ . قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا وَيَسْتَغْفِرُونَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا - قَالَ - فَيَقُولُونَ رَبِّ فِيهِمْ فُلاَنٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هُمُ الْقَوْمُ لاَ يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ( اللہ کی زمین میں ) چکر لگاتے رہتے ہیں ، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں ، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں ( اللہ کا ) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان ( کی وسعت کو ) بھر دیتے ہیں ۔ جب ( مجلس میں شریک ہونے والے ) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ ( فرشتے ) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں ، کہا : تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں : ہم زمین میں ( رہنے والے ) تیرے بندوں کی طرف سے ( ہو کر ) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے ، تیزی بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھی سے مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔ فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : پروردگار! ( انہوں نے ) نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! ( کس الحاح و زاری سے مانگتے! ) وہ کہتے ہیں : اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : تیری آگ ( جہنم ) سے ، اے رب! فرمایا : کیا انہوں نے میری آگ ( جہنم ) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : اے رب! نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ( ان کا کیا حال ہوتا! ) وہ کہتے ہیں : وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ، تو وہ فرماتا ہے : میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : وہ ( فرشتے ) کہتے ہیں : پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، سخت گناہ گار بندہ ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : تو اللہ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَىُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَكْثَرَ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . قَالَ وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ .
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا : قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ آپ کہے : "" اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما ، آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔ "" کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ جب کوئی ایک دعا مانگنا چاہتے تو یہی دعا مانگتے اور جب بڑی دعا مانگنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی مانگتے ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۱
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا فرماتے ہوئے یہ ) کہا کرتے تھے : " اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ . فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ . كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص دن میں سو مرتبہ : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، حمد صرف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے " کہے اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملتا ہے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور یہ کلمات شام تک پورا دن شیطان سے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی شخص اس سے زیادہ افضل عمل نہیں کر سکتا ، سوائے اس شخص کے جو اس سے بھی زیادہ مرتبہ یہی عمل کرے اور جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ " سبحان الله وبحمده " کہا تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ . لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کو بہت محبوب ہیں : " سبحان الله وبحمده سبحان العظيم " اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور سب حمد اسی کو سزاوار ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور عظمت کی ہر صفت سے متصف ہے ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات کہ میں " سبحان الله والحمدلله ولا اله الا لله والله اكبر " کہوں ، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَلِّمْنِي كَلاَمًا أَقُولُهُ قَالَ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " . قَالَ فَهَؤُلاَءِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " . قَالَ مُوسَى أَمَّا عَافِنِي فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَى .
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی بن مسہر اور ابن نمیر نے موسیٰ جہنی سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بھی یہی حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں موسی جہنی نے معصب بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں ( بطور ذکر ) کہا کروں ۔ آپ نے فرمایا : "" یہ کہا کرو : "" لا اله الا لله وحده لا شريك له الله اكبر كبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة الا بالله العزيز الحكيم "" "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں ، وہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، کسی میں برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر صرف اور صرف اللہ کی دی ہوئی جو سب پر غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔ "" اس شخص نے کہا : یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کہو : "" اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى "" اے اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "" موسیٰ نے کہا : جہاں تک "" عافنى "" مجھے عافیت عطا کر "" کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے تھوڑا سا وہم ہے اور مجھے یقین نہیں ہے ، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں موسیٰ کا یہ قول نقل نہیں کیا ۔
۴۳
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۴۹
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " .
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے اپنے والد ( طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : جو شخص اسلام قبول کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : " اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى " " اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۰
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي " .
ابومعاویہ نے کہا؛ ہمیں ابومالک اشجعی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے ، پھر اس کو حکم دیتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرے : اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وعافنى وارزقنى
۴۵
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۱
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي " . وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلاَّ الإِبْهَامَ " فَإِنَّ هَؤُلاَءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ " .
یزید بن ہارون نے کہا : ابومالک نے ہمیں اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ( اس وقت ) ان کے پاس ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی : اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے مانگوں تو کیا کہا کروں؟ آپ نے فرمایا : " تم کہو : " اللهم اغفرلى وارحمنى وعافنى وارزقنى " ساتھ ہی اپنے انگوٹھے کے سوا ( ایک ایک کر کے ) ساری انگلیاں بند کرتے گئے ( اور فرمایا : ) " یہ کلمات تمہارے لیے تمہاری دنیا اور آخرت دونوں جمع کر دیں گے ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ " . فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ قَالَ " يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ " .
معصب بن سعد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے؟ " آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے پوچھا ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " وہ سو بار سبحان الله کہے ۔ اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے ۔
۴۷
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " .
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس کے عمل نے اسے ( خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِرِ .
عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس طرح ابومعاویہ کی حدیث ہے ، مگر ابواسامہ کی حدیث میں تنگدست کے لیے آسانی کرنے کا ذکر نہیں ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ . قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ . قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ " مَا أَجْلَسَكُمْ " . قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلاَمِ وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا . قَالَ " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ " . قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ . قَالَ " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ " .
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں ایک حلقے ( والوں ) کے پاس سے گزرے ، انہوں نے کہا : تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے ، انہوں نے کہا؛ دیکھو ، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو ، ( اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا : " تم کس غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی ، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی ، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۴۸/۶۸۵۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " .
ثابت نے ابو بُردہ سے اور انہوں نے حضرت اغرمزنی رضی اللہ عنہ سے ، جنہیں شرفِ صحبت حاصل تھا ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے دل پر غبار سا چھا جاتا ہے تو میں ( اس کیفیت کے ازالے کے لیے ) ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں ۔