غسل اور تیمم
ابواب پر واپس
۵۲ حدیث
۰۱
سنن نسائی # ۴/۳۹۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏
"‏‏ لاَ يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے، اور وہ جنبی ہو ۔
۰۲
سنن نسائی # ۴/۳۹۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏‏
"‏‏ لاَ يَبُولَنَّ الرَّجُلُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔
۰۳
سنن نسائی # ۴/۳۹۸
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
۰۴
سنن نسائی # ۴/۳۹۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، پھر اسی سے غسل کیا جائے۔
۰۵
سنن نسائی # ۴/۴۰۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ‏‏.‏‏ قَالَ سُفْيَانُ قَالُوا لِهِشَامٍ - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - أَنَّ أَيُّوبَ إِنَّمَا يَنْتَهِي بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ إِنَّ أَيُّوبَ لَوِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يَرْفَعَ حَدِيثًا لَمْ يَرْفَعْهُ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔
۰۶
سنن نسائی # ۴/۴۰۱
جابر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏‏
"‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلاَّ بِمِئْزَرٍ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو ۔
۰۷
سنن نسائی # ۴/۴۰۲
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو ‏‏
"‏‏ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔
۰۸
سنن نسائی # ۴/۴۰۳
ابن ابی اوفی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏‏
"‏‏ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
۰۹
سنن نسائی # ۴/۴۰۴
عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنَابَةِ أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ ‏‏.‏‏
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی ( صرف ) وضو کر کے سو جاتے۔
۱۰
سنن نسائی # ۴/۴۰۵
غذیف بن حارث رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ كَانَ رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ ‏‏.‏‏ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً ‏‏.‏‏
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے ( کرتے تھے ) ، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔
۱۱
سنن نسائی # ۴/۴۰۶
یعلیٰ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ ‏‏
"‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» بردبار ، «حیی» باحیاء اور «ستر» پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے ۔
۱۲
سنن نسائی # ۴/۴۰۷
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏
"‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَىْءٍ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل «ستر» پردہ پوشی کرنے والا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے ۔
۱۳
سنن نسائی # ۴/۴۰۸
میمونہ رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاءً - قَالَتْ - فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ قَالَتْ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا ‏‏.‏‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں ( لینا ) چاہا۔
۱۴
سنن نسائی # ۴/۴۰۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏
"‏‏ بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ قَالَ فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لاَ غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔
۱۵
سنن نسائی # ۴/۴۱۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلُ فِي الإِنَاءِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جس کا نام فرق تھا غسل کرتے تھے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
۱۶
سنن نسائی # ۴/۴۱۱
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا ‏‏.‏‏ وَقَالَ سُوَيْدٌ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ ( بھربھر کر ) لیتے تھے۔
۱۷
سنن نسائی # ۴/۴۱۲
عبدالرحمٰن بن القاسم رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
۱۸
سنن نسائی # ۴/۴۱۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔
۱۹
سنن نسائی # ۴/۴۱۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ ‏‏
"‏‏ دَعِي لِي ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏ وَأَقُولَ أَنَا دَعْ لِي ‏‏.‏‏ قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
۲۰
سنن نسائی # ۴/۴۱۵
ام ہانی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ ‏‏.‏‏ قَالَتْ فَصَلَّى الضُّحَى فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ ‏‏.‏‏
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔
۲۱
سنن نسائی # ۴/۴۱۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَذَا فَإِذَا تَوْرٌ مَوْضُوعٌ مِثْلُ الصَّاعِ أَوْ دُونَهُ فَنَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي بِيَدَىَّ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَمَا أَنْقُضُ لِي شَعْرًا ‏‏.‏‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں اس برتن سے غسل کرتے تھے، تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک ڈول رکھا ہوا تھا جو ایک صاع کے برابر تھا، یا اس سے کچھ کم، ( اور وہ اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں ) ( وہ کہہ رہی تھیں کہ ) ہم دونوں غسل ایک ساتھ شروع کرتے، تو میں اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی بہاتی، اور میں اپنا بال نہیں کھولتی تھی۔
۲۲
سنن نسائی # ۴/۴۱۷
ابراہیم بن محمد بن المنتشر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ‏‏.‏‏ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ‏‏.‏‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں ( اپنے جسم پر ) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو ( محمد بن منتشر کہتے ہیں ) میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ۱؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی ( اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا ) ۔
۲۳
سنن نسائی # ۴/۴۱۸
میمونہ رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ‏‏.‏‏ قَالَتْ هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ ‏‏.‏‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور ( وضو سے پہلے ) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی ( آپ کے ) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔
۲۴
سنن نسائی # ۴/۴۱۹
میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ يَمْسَحُهَا ثُمَّ يَغْسِلُهَا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ يَتَنَحَّى فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ‏‏.‏‏
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔
۲۵
سنن نسائی # ۴/۴۲۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اغْتَسَلَ ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔
۲۶
سنن نسائی # ۴/۴۲۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَقَالَ بِوَاسِطٍ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہو سکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔
۲۷
سنن نسائی # ۴/۴۲۲
It was narrated from Abu Salamah from 'Aishah, and, from 'Amr bin Sa'd, from Nafi', from Ibn 'Umar
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ - قَالَ أَنْبَأَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَاتَّسَقَتِ الأَحَادِيثُ عَلَى هَذَا يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَيَصُبُّ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُ مَا هُنَالِكَ حَتَّى يُنْقِيَهُ ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى التُّرَابِ إِنْ شَاءَ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يُنْقِيَهَا ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاَثًا وَيَسْتَنْشِقُ وَيُمَضْمِضُ وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ رَأْسَهُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَهَكَذَا كَانَ غُسْلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا ذُكِرَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث ( عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ) متفق ہو جاتی ہیں کہ آپ ( غسل ) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کر دیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کر لیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل ( جنابت ) ہوتا تھا۔
۲۸
سنن نسائی # ۴/۴۲۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ رَأْسَهُ بِأَصَابِعِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہو جاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔
۲۹
سنن نسائی # ۴/۴۲۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَىْءٍ نَحْوِ الْحِلاَبِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔
۳۰
سنن نسائی # ۴/۴۲۵
جابر بن مطعم رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ فَقَالَ ‏
"‏ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏ لَفْظُ سُوَيْدٍ ‏.‏
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل ( جنابت ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں ۔
۳۱
سنن نسائی # ۴/۴۲۶
جابر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔
۳۲
سنن نسائی # ۴/۴۲۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ قَالَ ‏"‏ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ ‏"‏ تَوَضَّئِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَتْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَىَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے ( پھر ) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
۳۳
سنن نسائی # ۴/۴۲۸
میمونہ رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ ‏.‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
۳۴
سنن نسائی # ۴/۴۲۹
جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ‏.‏ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ ‏
"‏ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي ‏"‏ ‏.‏
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو ( مدینہ سے ) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر ( احرام باندھ کر ) لبیک پکارو ۔
۳۵
سنن نسائی # ۴/۴۳۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
۳۶
سنن نسائی # ۴/۴۳۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ۱؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ۲؎۔
۳۷
سنن نسائی # ۴/۴۳۲
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلاَةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت ( عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہوں، اور ( مجھ سے پہلے ) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
۳۸
سنن نسائی # ۴/۴۳۳
ابو سعید
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلاَتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ فَسَأَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ ‏"‏ أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلآخَرِ ‏"‏ أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔
۳۹
سنن نسائی # ۴/۴۳۴
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِيرَةُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، ‏.‏
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔
۴۰
سنن نسائی # ۴/۴۳۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَالْمِقْدَادُ وَعَمَّارٌ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرَؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ ذَاكَ الْمَذْىُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں: ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔
۴۱
سنن نسائی # ۴/۴۳۶
علی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَأَمَرْتُ رَجُلاً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فِيهِ الْوُضُوءُ».
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
۴۲
سنن نسائی # ۴/۴۳۷
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَذْىِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏
"‏ فِيهِ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
۴۳
سنن نسائی # ۴/۴۳۸
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ».
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ( جا کر ) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔
۴۴
سنن نسائی # ۴/۴۳۹
سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے ۔
۴۵
سنن نسائی # ۴/۴۴۰
It was narrated from Al-Miqdad bin Al-Aswad thatt 'Ali bin Abi Talib, peace be upon him, told him to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who gets close to a woman and Madhi comes out of him. (He said
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْىُ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ‏.‏ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏
"‏ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے ۔
۴۶
سنن نسائی # ۴/۴۴۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ۔
۴۷
سنن نسائی # ۴/۴۴۲
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں ( جا کر ) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا ( اس نے آپ کو جگایا ) تو آپ نے ( جا کر ) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔
۴۸
سنن نسائی # ۴/۴۴۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور ( جا کر ) سو جائے ۱؎۔
۴۹
سنن نسائی # ۴/۴۴۴
بصرہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ عَلَى أَثَرِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أُتْقِنْهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
۵۰
سنن نسائی # ۴/۴۴۵
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ ‏"‏ ‏.‏
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر ( عضو تناسل ) تک لے جائے ( چھوئے ) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔