۵۱ حدیث
۰۱
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۰
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ثُمَّ قَالَ ‏
"‏ مَا لَهُمْ وَلِلْكِلاَبِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ ‏.‏
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: انہیں کتوں سے کیا مطلب ؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ۱؎۔
۰۲
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۱
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ثُمَّ قَالَ ‏
"‏ مَا لَهُمْ وَلِلْكِلاَبِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الزَّرْعِ وَكَلْبِ الْعِينِ ‏.‏ قَالَ بُنْدَارٌ الْعِينُ حِيطَانُ الْمَدِينَةِ ‏.‏
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا مطلب ہے ؟ پھر آپ نے کھیت اور باغ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ بندار کہتے ہیں: «عین» سے مراد مدینہ کے باغات ہیں۔
۰۳
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔
۰۴
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۳
سلیم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَافِعًا صَوْتَهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَكَانَتِ الْكِلاَبُ تُقْتَلُ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کئیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
۰۵
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلاَّ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے ۔
۰۶
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۵
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ وَمَا مِنْ قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ إِلاَّ نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے، تو میں یقیناً ان کے قتل کا حکم دیتا، پھر بھی خالص کالے کتے کو قتل کر ڈالو، اور جن لوگوں نے جانوروں کی حفاظت یا شکاری یا کھیتی کے علاوہ دوسرے کتے پال رکھے ہیں، ان کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہو جاتے ہیں ۱؎۔
۰۷
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۶
سفیان بن ابو زہیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏
"‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ ‏.‏
سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کتا پالے اور وہ اس کے کھیت یا ریوڑ کے کام نہ آتا ہو تو اس کے عمل ( ثواب ) سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے ، لوگوں نے سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے خود اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اس مسجد کے رب کی۔
۰۸
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۷
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِيَ الْمُعَلَّمِ وَأَصِيدُ بِكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ فِي أَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَلاَ تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلاَّ أَنْ لاَ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الصَّيْدِ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ ( ورنہ نہیں ) ۱؎۔
۰۹
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۸
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلاَبِ ‏.‏ قَالَ ‏
"‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلاَبٌ أُخَرُ فَلاَ تَأْكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُهُ - يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ الْمُنْذِرِ - يَقُولُ حَجَجْتُ ثَمَانِيَةً وَخَمْسِينَ حِجَّةً أَكْثَرُهَا رَاجِلٌ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو «بسم الله» کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔
۱۰
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۰۹
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نُهِينَا عَنْ صَيْدِ، كَلْبِهِمْ وَطَائِرِهِمْ يَعْنِي الْمَجُوسَ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار ( کھانے ) سے منع کر دیا گیا ہے۔
۱۱
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۰
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ فَقَالَ ‏
"‏ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔
۱۲
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۱
ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کو کھاؤ جو تمہاری کمان شکار کرے ۔
۱۳
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۲
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي ‏.‏ قَالَ ‏
"‏ إِذَا رَمَيْتَ وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَا خَزَقْتَ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ ( شکار کے جسم میں ) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ ۔
۱۴
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۳
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً قَالَ ‏
"‏ إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَهُ فَكُلْهُ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ ۔
۱۵
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۴
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ ‏.‏ قَالَ ‏
"‏ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض ( چوڑان ) سے مرے وہ مردار ہے ۔
۱۶
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۵
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏
"‏ لاَ تَأْكُلْ إِلاَّ أَنْ يَخْزِقَ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شکار میں تیر پیوست ہوا ہو صرف اسی کو کھاؤ ۔
۱۷
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۶
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَمَا قُطِعَ مِنْهَا فَهُوَ مَيْتَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے ۔
۱۸
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۷
تمیم دری
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ وَيَقْطَعُونَ أَذْنَابَ الْغَنَمِ أَلاَ فَمَا قُطِعَ مِنْ حَىٍّ فَهُوَ مَيِّتٌ ‏"‏ ‏.‏
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی دمیں کاٹیں گے، آ گاہ رہو! زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار کے ( حکم میں ) ہے۔
۱۹
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۸
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ الْحُوتُ وَالْجَرَادُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار: مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں ۔
۲۰
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۱۹
سلمان رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ ‏
"‏ أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔
۲۱
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۰
It was narrated that Abu (Sa’eed) Baqqal heard Anas bin Malik say
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَهَادَيْنَ الْجَرَادَ عَلَى الأَطْبَاقِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٹڈیوں کو پلیٹوں میں رکھ کر بطور ہدیہ بھیجتی تھیں۔
۲۲
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۱
جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاَثَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ وَاقْتُلْ صِغَارَهُ وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ وَاقْطَعْ دَابِرَهُ وَخُذْ بِأَفْوَاهِهَا عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْجَرَادَ نَثْرَةُ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ زِيَادٌ فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى الْحُوتَ يَنْثُرُهُ ‏.‏
جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل ( جڑ ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے ( انہیں ان تک پہنچنے نہ دے ) ، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے ۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد ( راوی حدیث ) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے ( ٹڈی کو ) چھینکتے دیکھا۔
۲۳
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ أَوْ ضَرْبٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِأَسْوَاطِنَا وَنِعَالِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں ۔
۲۴
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ قَتْلِ الصُّرَدِ وَالضِّفْدَعِ وَالنَّمْلَةِ وَالْهُدْهُدِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا ( ایک چھوٹا سا پرندہ ) ، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
۲۵
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور لٹورا کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
۲۶
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَرَصَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ ‏"‏ ‏.‏
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ قَرَصَتْ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں ( مخلوقات ) میں سے ایک امت ( مخلوق ) کو تباہ کر دیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی ؟۔
۲۷
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۶
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ قَرِيبًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ ‏
"‏ إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيْدًا وَلاَ تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَادَ ‏.‏ فَقَالَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ عُدْتَ لاَ أُكَلِّمُكَ أَبَدًا ‏.‏
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس ( کنکری مارنے ) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ۱؎۔
۲۸
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۷
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ ‏
"‏ إِنَّهَا لاَ تَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلاَ تَنْكِي الْعَدُوَّ وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ وَتَكْسِرُ السِّنَّ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے ۔
۲۹
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ ‏.‏
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔
۳۰
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۲۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا - أَدْنَى مِنَ الأُولَى - وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً - أَدْنَى مِنَ الَّذِي ذَكَرَهُ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی ( پہلے سے کم ) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی ( دوسرے سے کم ) ہیں۔
۳۱
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لِلْوَزَغِ ‏
"‏ الْفُوَيْسِقَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو «فویسقہ» چھوٹا فاسق ( یعنی موذی ) کہا ہے ۱؎۔
۳۲
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۱
It was narrated from Sa’ibah, the freed slave woman of Fakih bin Mughirah, that she entered upon ‘Aishah and saw a spear in her house. She said
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَائِبَةَ، - مَوْلاَةِ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ - أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا قَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الأَوْزَاغَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الأَرْضِ دَابَّةٌ إِلاَّ أَطْفَأَتِ النَّارَ غَيْرَ الْوَزَغِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفُخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقَتْلِهِ ‏.‏
فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا، تو عرض کیا: ام المؤمنین! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں؟ کہا: ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے ( مزید ) پھونک مارتی تھی، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا ۱؎۔
۳۳
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى دَخَلْتُ الشَّامَ ‏.‏
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔
۳۴
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔
۳۵
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
۳۶
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۵
خزیمہ بن جاز رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ، خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ لأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الأَرْضِ مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ قَالَ ‏"‏ وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا: آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ۱؎۔
۳۷
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۶
It was narrated that Ibn Abu ‘Ammar, who is ‘Abdur-Rahman, said
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، - وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ أَشَىْءٌ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے «ضبع» ( لکڑبگھا ) ۱؎ کے متعلق سوال کیا، کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے کھاؤں؟ کہا: ہاں، پھر میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ( اس سلسلے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
۳۸
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۷
خزیمہ بن جاز رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ قَالَ ‏
"‏ وَمَنْ يَأْكُلُ الضَّبُعَ ‏"‏ ‏.‏
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ لکڑبگھا کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑبگھا کون کھاتا ہے ؟۔
۳۹
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۸
ثابت بن یزید الانصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا فَاشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ فَقَالَ ‏
"‏ إِنَّ أُمَّةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الأَرْضِ وَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلَّهَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوهَا فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ ‏.‏
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب ( گوہ ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو ، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی ( اس کے کھانے سے ) منع کیا۔
۴۰
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۳۹
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمْ يُحَرِّمِ الضَّبَّ وَلَكِنْ قَذِرَهُ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لأَكَلْتُهُ ‏.‏
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضب ( گوہ ) کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے اسے ناپسند فرمایا، اور وہ عام چرواہوں کا کھانا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ متعدد بہت سارے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے، اور وہ اگر میرے پاس ہوتی تو اسے میں ضرور کھاتا۔
۴۱
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۰
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ مَضَبَّةٌ فَمَا تَرَى فِي الضِّبَابِ قَالَ ‏
"‏ بَلَغَنِي أَنَّهُ أُمَّةٌ مُسِخَتْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ ‏.‏
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں ضب ( گوہ ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کر دی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔
۴۲
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۱
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ‏.‏ فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ قَالَ ‏
"‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ‏.‏
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی ضب ( گوہ ) لائی گئی، اور آپ کو پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ۱؎، تو وہاں موجود ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ضب ( گوہ ) کا گوشت ہے ( یہ سن کر ) آپ نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، خالد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ضب ( گوہ ) حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ میرے علاقہ میں نہیں ہوتی اس لیے میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں ، ( یہ سن کر ) خالد رضی اللہ عنہ نے ضب ( گوہ ) کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کو کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ رہے تھے ۲؎۔
۴۳
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لاَ أُحَرِّمُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الضَّبَّ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حرام نہیں کرتا یعنی ضب ( گوہ ) کو ۱؎۔
۴۴
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَرْنَا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا فَسَعَوْا عَلَيْهَا فَلَغَبُوا فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِعَجُزِهَا وَوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَبِلَهَا ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مرالظہران سے گزرے، تو ہم نے ایک خرگوش کو چھیڑا ( اس کو اس کی پناہ گاہ سے نکالا ) ، لوگ اس پر دوڑے اور تھک گئے، پھر میں نے بھی دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا، اور اسے لے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو ذبح کیا، اور اس کی پٹھ اور دم گزا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا ۱؎۔
۴۵
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۴
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَرْنَبَيْنِ مُعَلِّقَهُمَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ هَذَيْنِ الأَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهَا فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ أَفَآكُلُ قَالَ ‏
"‏ كُلْ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو خرگوش لٹکائے ہوئے گزرے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ دونوں خرگوش ملے، اور مجھے کوئی لوہا نہیں ملا، جس سے میں انہیں ذبح کرتا، اس لیے میں نے ایک ( تیز ) پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ ۔
۴۶
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۵
خزیمہ بن جاز رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ، خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ لأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الأَرْضِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ قَالَ ‏"‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ وَرَأَيْتُ خَلْقًا رَابَنِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الأَرْنَبِ قَالَ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نُبِّئْتُ أَنَّهَا تَدْمَى ‏"‏ ‏.‏
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا کہ آپ سے زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کروں، آپ ضب ( گوہ ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں میں نے عرض کیا: میں تو صرف ان چیزوں کو کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا ہے، اور آپ ( ضب ) کیوں نہیں کھاتے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوموں میں ایک گروہ گم ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خلقت کچھ ایسی دیکھی کہ مجھے شک ہوا ( یعنی شاید یہ ضب- گوہ- وہی گمشدہ گروہ ہو ) میں نے عرض کیا: آپ خرگوش کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں تو ان چیزوں میں سے کھاؤں گا جسے آپ حرام نہ کریں، اور آپ خرگوش کھانا کیوں نہیں پسند کرتے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ اسے حیض آتا ہے ۔
۴۷
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۶
Mughirah bin Abu Burdah, who was of the tribe of Banu ‘Abd-Dar, narrated that he heard Abu Hurairah say
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ الْبَحْرُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْجَوَادِ أَنَّهُ قَالَ هَذَا نِصْفُ الْعِلْمِ لأَنَّ الدُّنْيَا بَرٌّ وَبَحْرٌ فَقَدْ أَفْتَاكَ فِي الْبَحْرِ وَبَقِيَ الْبَرُّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعبیدہ الجواد سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: یہ آدھا علم ہے اس لیے کہ دنیا بحر و بر یعنی خشکی اور تری کا نام ہے، تو آپ نے سمندر کے متعلق مسئلہ بتا دیا، اور خشکی ( کا مسئلہ ) باقی رہ گیا ۱؎۔
۴۸
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۷
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ فَطَفَا فَلاَ تَأْكُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جانور کو سمندر نے کنارے پر ڈال دیا ہو یا پانی کم ہو جانے سے وہ مر جائے تو اسے کھاؤ، اور جو سمندر میں مر کر اوپر آ جائے اسے مت کھاؤ ۔
۴۹
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۸
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَنْ يَأْكُلُ الْغُرَابَ وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ فَاسِقًا ‏"‏ ‏.‏ وَاللَّهِ مَا هُوَ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کوّا کون کھائے گا؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فاسق کہا، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ۱؎۔
۵۰
سنن ابن ماجہ # ۲۸/۳۲۴۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ وَالْفَأْرَةُ فَاسِقَةٌ وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لِلْقَاسِمِ أَيُؤْكَلُ الْغُرَابُ قَالَ مَنْ يَأْكُلُهُ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ فَاسِقٌ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ فاسق ہے، بچھو فاسق ہے، چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے ۔ قاسم سے پوچھا گیا: کیا کوا کھایا جاتا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فاسق کہنے کے بعد اسے کون کھائے گا؟۔