کھانا
ابواب پر واپس
۰۱
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ وَقِيلَ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ . ثَلاَثًا فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لأَنْظُرَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ " .
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ " .
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، یہ تین بار کہا، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ ( آپ کو ) دیکھوں، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو، ( ایسا کرنے سے ) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ۱؎۔
۰۲
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى حُدِّثْنَا عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
" أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور بھائی بھائی ہو جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
۰۳
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، . أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
۰۴
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زِيَادٍ الأَسَدِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .
" طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے ۱؎۔
۰۵
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۵
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَإِنَّ طَعَامَ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلاَثَةَ وَالأَرْبَعَةَ وَإِنَّ طَعَامَ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ " .
" إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَإِنَّ طَعَامَ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلاَثَةَ وَالأَرْبَعَةَ وَإِنَّ طَعَامَ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ " .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
۰۶
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
" الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۱؎۔
۰۷
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
" الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
۰۸
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
" الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔
۰۹
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۵۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَعَامًا قَطُّ إِنْ رَضِيَهُ أَكَلَهُ وَإِلاَّ تَرَكَهُ .
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ نُخَالِفُ فِيهِ يَقُولُونَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ .
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ نُخَالِفُ فِيهِ يَقُولُونَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر آپ کو کھانا اچھا لگتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے
۱۰
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۰
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُكْثِرَ اللَّهُ خَيْرَ بَيْتِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ إِذَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَإِذَا رُفِعَ " .
" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُكْثِرَ اللَّهُ خَيْرَ بَيْتِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ إِذَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَإِذَا رُفِعَ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلما نے فرمایا: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آ جائے، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے ۔
۱۱
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۱
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا صَاعِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ آتِيكَ بِوَضُوءٍ قَالَ
" أُرِيدُ الصَّلاَةَ " .
" أُرِيدُ الصَّلاَةَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ۱؎۔
۱۲
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" لاَ آكُلُ مُتَّكِئًا " .
" لاَ آكُلُ مُتَّكِئًا " .
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۱؎۔
۱۳
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۳
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَاةً فَجَثَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ فَقَالَ
" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا " .
" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا " .
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ۱؎۔
۱۴
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَمَا أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
" أَمَا أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ ( «بسم الله» ) کہے، اگر وہ شروع میں ( «بسم الله» ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے: «بسم الله في أوله وآخره» ۱؎۔
۱۵
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا آكُلُ
" سَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
" سَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں کھانے جا رہا تھا تو مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لو،، یعنی «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کرو۔
۱۶
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۶
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ " .
" لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔
۱۷
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، سَمِعَهُ مِنْ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي
" يَا غُلاَمُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ " .
" يَا غُلاَمُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ " .
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: لڑکے! «بسم الله» کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
۱۸
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" لاَ تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ " .
" لاَ تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ " .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ، اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے ۔
۱۹
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " .
قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ قَيْسٍ، يَسْأَلُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَطَاءٍ " لاَ يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " . عَمَّنْ هُوَ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ فَإِنَّهُ حُدِّثْنَاهُ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ جَابِرٌ عَلَيْنَا وَإِنَّمَا لَقِيَ عَطَاءٌ جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا بِمَكَّةَ .
قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ قَيْسٍ، يَسْأَلُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَطَاءٍ " لاَ يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا " . عَمَّنْ هُوَ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ فَإِنَّهُ حُدِّثْنَاهُ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ جَابِرٌ عَلَيْنَا وَإِنَّمَا لَقِيَ عَطَاءٌ جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا بِمَكَّةَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر رضی اللہ عنہ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے۱؎۔
۲۰
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۰
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَىِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
" لاَ يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَىِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۱؎۔
۲۱
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ، قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَمُّ عَاصِمٍ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ " .
" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ " .
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔
۲۲
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا فَقَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ " .
" مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ " .
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
۲۳
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ وَلاَ يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَىْ جَلِيسِهِ " .
" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ وَلاَ يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَىْ جَلِيسِهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
۲۴
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا فَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ " . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ " .
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں ۔
۲۵
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْيَحْصُبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " .
" كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " .
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے ۔
۲۶
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۶
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عُمَرُ بْنُ الدَّرَفْسِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي قَسِيمَةَ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِرَأْسِ الثَّرِيدِ فَقَالَ
" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا " .
" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا " .
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے ۔
۲۷
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ وَذَرُوا وَسَطَهُ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ " .
" إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ وَذَرُوا وَسَطَهُ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے ۔
۲۸
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۸
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ فَقِيلَ أَصْلَحَ اللَّهُ الأَمِيرَ إِنَّ هَؤُلاَءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ . قَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ لأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِهَذِهِ الأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدَنَا إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا وَلاَ يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ .
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎۔
۲۹
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۷۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْسَحْ مَا عَلَيْهَا مِنَ الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا " .
" إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْسَحْ مَا عَلَيْهَا مِنَ الأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا " .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھا لے ۔
۳۰
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
" كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۱؎۔
۳۱
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۱
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۔
۳۲
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيُّ أَبُو الْحَارِثِ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَلِيلٌ مَا نَجِدُ الطَّعَامَ فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ إِلاَّ أَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَأَقْدَامَنَا ثُمَّ نُصَلِّي وَلاَ نَتَوَضَّأْ . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ غَرِيبٌ لَيْسَ إِلاَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ہی میسر ہوتا تھا، اور جب ہمیں کھانا میسر ہو جاتا تو ہمارے پاس رومال اور تولیے نہیں ہوتے تھے، سوائے اپنی ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے، پھر ہم نماز پڑھتے، اور دوبارہ وضو نہیں کرتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، یہ صرف محمد بن سلمہ سے مروی ہے۔
۳۳
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ، عَنْ مَوْلًى، لأَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا قَالَ
" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين»یعنی حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۱؎۔
۳۴
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا رُفِعَ طَعَامُهُ أَوْ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ
" الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا " .
" الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا " .
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد و ثناء ہے، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں، اسے نہ چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے، اے ہمارے رب! ( ہماری دعا سن لے ) ۔
۳۵
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۵
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
" مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا ۔
۳۶
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۶
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَحْشِيٍّ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلاَ نَشْبَعُ . قَالَ " فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ " .
وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو ، لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ، اور اللہ کا نام لیا کرو، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی ۱؎۔
۳۷
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۷
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" كُلُوا جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُوا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ " .
" كُلُوا جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُوا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ " .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب مل کر کھانا کھاؤ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے ۔
۳۸
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۸
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ وَلاَ شَرَابٍ وَلاَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔
۳۹
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۸۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ " .
" إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے ۱؎۔
۴۰
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۰
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا أَحَدُكُمْ قَرَّبَ إِلَيْهِ مَمْلُوكُهُ طَعَامًا قَدْ كَفَاهُ عَنَاءَهُ وَحَرَّهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيَجْعَلْهَا فِي يَدِهِ " .
" إِذَا أَحَدُكُمْ قَرَّبَ إِلَيْهِ مَمْلُوكُهُ طَعَامًا قَدْ كَفَاهُ عَنَاءَهُ وَحَرَّهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيَجْعَلْهَا فِي يَدِهِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا غلام جب اس کے سامنے کھانا پیش کرے جس کو تیار کرنے میں اس نے اس کی طرف سے تکلیف اور گرمی برداشت کی ہے، تو اسے چاہیئے کہ اسے بھی بلائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھائے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو چاہیئے کہ ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔
۴۱
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ أَوْ لِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " .
" إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ أَوْ لِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا غلام کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ غلام کو اپنے ساتھ بٹھائے، یا یہ کہ اس میں سے اسے بھی دے، اس لیے کہ وہی تو ہے جس نے اس کی گرمی اور اس کے دھوئیں کی تکلیف اٹھائی ہے ۔
۴۲
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الإِسْكَافِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى خِوَانٍ وَلاَ فِي سُكُرُّجَةٍ . قَالَ فَعَلاَمَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان ( میز ) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» ( چھوٹی طشتری ) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔
۴۳
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔
۴۴
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُقَامَ عَنِ الطَّعَامِ حَتَّى يُرْفَعَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ لوگ کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اٹھ جائیں۔
۴۵
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلاَ يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ الرَّجُلَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ " .
" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلاَ يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ الرَّجُلَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگا دیا جائے تو کوئی شخص اس کے اٹھائے جانے سے پہلے نہ اٹھے، اور نہ ہی اپنا ہاتھ کھینچے گرچہ وہ آسودہ ہو چکا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ بھی کھانے سے فارغ نہ ہو جائیں، ( اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو ) تو عذر پیش کر دے، اس لیے کہ آدمی اپنے ساتھی سے شرماتا ہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو ۔
۴۶
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۶
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَسِيمٍ الْجَمَّالُ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَلاَ لاَ يَلُومَنَّ امْرُؤٌ إِلاَّ نَفْسَهُ يَبِيتُ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ " .
" أَلاَ لاَ يَلُومَنَّ امْرُؤٌ إِلاَّ نَفْسَهُ يَبِيتُ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! وہ شخص خود اپنے ہی کو ملامت کرے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو ۔
۴۷
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَلَمْ يَغْسِلْ يَدَهُ فَأَصَابَهُ شَىْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " .
" إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَلَمْ يَغْسِلْ يَدَهُ فَأَصَابَهُ شَىْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے ۔
۴۸
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّ ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِطَعَامٍ فَعُرِضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا لاَ نَشْتَهِيهِ . فَقَالَ
" لاَ تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " .
" لاَ تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " .
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ۱؎۔
۴۹
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۲۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ - قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ
" ادْنُ فَكُلْ " . فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَيَا لَهْفَ نَفْسِي هَلاَّ كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
" ادْنُ فَكُلْ " . فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَيَا لَهْفَ نَفْسِي هَلاَّ كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھا لیا
۵۰
سنن ابن ماجہ # ۲۹/۳۳۰۰
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْمَسْجِدِ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ .
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔