۶۵ حدیث
۰۱
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۱
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ ‏"‏ ‏.‏
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ( جگری دوست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی: شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ۱؎۔
۰۲
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۲
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ نُسَىٍّ، يَقُولُ سَمِعْتُ خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏
"‏ إِيَّاكَ وَالْخَمْرَ فَإِنَّ خَطِيئَتَهَا تَفْرَعُ الْخَطَايَا كَمَا أَنَّ شَجَرَتَهَا تَفْرَعُ الشَّجَرَ ‏"‏ ‏.‏
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔
۰۳
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۳
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ أَنْ يَتُوبَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔
۰۴
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔
۰۵
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ مُدْمِنُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ۱؎۔
۰۶
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۶
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
۰۷
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۷
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ قَالَ ‏"‏ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ ( اس کے بعد بھی ) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ ۔
۰۸
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں: کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۔
۰۹
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۷۹
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَهُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا ‏"‏ ‏.‏
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے ۔
۱۰
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۰
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ، وَأَبِي، طُعْمَةَ مَوْلاَهُمْ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشَرَةِ أَوْجُهٍ بِعَيْنِهَا وَعَاصِرِهَا وَمُعْتَصِرِهَا وَبَائِعِهَا وَمُبْتَاعِهَا وَحَامِلِهَا وَالْمَحْمُولَةِ إِلَيْهِ وَآكِلِ ثَمَنِهَا وَشَارِبِهَا وَسَاقِيهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب دس طرح سے ملعون ہے، یہ لعنت خود اس پر ہے، اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کر لے جائی جائے، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر ۔
۱۱
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، - أَوْ حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ وَبَائِعَهَا وَالْمُبْتَاعَةَ لَهُ وَسَاقِيَهَا وَالْمُسْتَقَاةَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى عَدَّ عَشَرَةً مِنْ هَذَا الضَّرْبِ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا
۱۲
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
۱۳
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ، بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔
۱۴
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۴
ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لاَ تَذْهَبُ اللَّيَالِي وَالأَيَّامُ حَتَّى تَشْرَبَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن یعنی زمانہ ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ میری امت کی ایک جماعت اس میں شراب پئے گی، وہ شراب کا نام بدل دے گی ۱؎۔
۱۵
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۵
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بعض لوگ شراب کا دوسرا نام رکھ کر پئیں گے ۔
۱۶
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۶
It was narrated from ‘Aishah, narrating it from the Prophet (ﷺ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
۱۷
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۷
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
۱۸
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۸
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ هَذَا حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل مصر کی حدیث ہے۔
۱۹
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۸۹
معاویہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثُ الرَّقِّيِّينَ ‏.‏
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر نشہ لانے والی چیز ہر مومن پر حرام ہے ۔ یہ اہل رقہ کی حدیث ہے۔
۲۰
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۰
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سَهْلٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے ۔
۲۱
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۱
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
۲۲
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
۲۳
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۳
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
۲۴
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۴
عمرو ابن شعیب
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
۲۵
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا ‏.‏
قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
۲۶
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏
"‏ لاَ تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالْبُسْرَ جَمِيعًا وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پکی اور کچی کھجوریں ملا کر نبیذ نہ بناؤ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
۲۷
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۷
عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏
"‏ لاَ تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالزَّهْوِ وَلاَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
۲۸
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، حَدَّثَتْنَا بَنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلاً أَوْ لَيْلاً فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
۲۹
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۳۹۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ صَبِيحٍ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَالْغَدَ وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَىْءٌ أَهْرَاقَهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔
۳۰
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۰
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے ایک پیالے میں نبیذ تیار بنائی جاتی تھی۔
۳۱
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْبَذَ فِي النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمَةِ وَقَالَ ‏
"‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎۔
۳۲
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْقَرْعِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت ( روغنی برتن ) ، اور دباء ( کدو کی تونبی ) میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا۔
۳۳
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۳
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا۔
۳۴
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۴
عبدالرحمٰن بن یامر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم ( کے استعمال ) سے منع فرمایا ہے۔
۳۵
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۵
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَوْعِيَةِ فَانْتَبِذُوا فِيهِ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ ‏"‏ ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب ان میں نبیذ تیار کر سکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
۳۶
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۶
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الأَوْعِيَةِ أَلاَ وَإِنَّ وِعَاءً لاَ يُحَرِّمُ شَيْئًا كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، سنو! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
۳۷
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَتْنِي رُمَيْثَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَتَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ كُلَّ عَامٍ مِنْ جِلْدِ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً ثُمَّ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَفِي كَذَا وَفِي كَذَا إِلاَّ الْخَلَّ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے سوال کیا: کیا تم میں سے کوئی عورت اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کے جانور کی کھال سے ایک مشک تیار کرے؟ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اور فلاں فلاں برتن میں بھی، البتہ ان میں سرکہ بنایا جا سکتا ہے۔
۳۸
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجِرَارِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
۳۹
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۰۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ فَقَالَ ‏
"‏ اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۱؎۔
۴۰
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۰
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏
"‏ غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَحُلُّ سِقَاءً وَلاَ يَفْتَحُ بَابًا وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ۱؎۔
۴۱
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِكْفَاءِ الإِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
۴۲
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۲
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً إِنَاءً لِطَهُورِهِ وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
۴۳
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۳
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
۴۴
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۴
حذیفہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ ‏
"‏ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
۴۵
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۵
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
۴۶
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلاَثًا وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلاَثًا ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔
۴۷
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۷
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی
۴۸
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۸
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
۴۹
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۱۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ وَإِنَّ رَجُلاً بَعْدَمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
۵۰
سنن ابن ماجہ # ۳۰/۳۴۲۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔