لباس
ابواب پر واپس
۰۱
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ
" شَغَلَنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ " .
" شَغَلَنِي أَعْلاَمُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔
۰۲
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ لِي إِزَارًا غَلِيظًا مِنَ الَّتِي تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الأَكْسِيَةِ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ وَأَقْسَمَتْ لِي لَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِيهِمَا .
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ ( موٹا ارزاں کمبل ) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میں وفات پائی ۱؎۔
۰۳
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى فِي شَمْلَةٍ قَدْ عَقَدَ عَلَيْهَا .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں آپ نے گرہ لگا رکھی تھی۔
۰۴
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۳
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔
۰۵
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسُبُّ أَحَدًا وَلاَ يُطْوَى لَهُ ثَوْبٌ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو برا بھلا کہا ہو یا آپ کا کپڑا تہ کیا جاتا رہا ہو۔
۰۶
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۵
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِبُرْدَةٍ - قَالَ وَمَا الْبُرْدَةُ قَالَ الشَّمْلَةُ - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي لأَكْسُوَكَهَا . فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِيهَا وَإِنَّهَا لإِزَارُهُ فَجَاءَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ - رَجُلٌ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ اكْسُنِيهَا . قَالَ
" نَعَمْ " . فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ سَائِلاً . فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لأَلْبَسَهَا وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي . فَقَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ .
" نَعَمْ " . فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاهَا وَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ كُسِيَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ سَائِلاً . فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لأَلْبَسَهَا وَلَكِنْ سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا لِتَكُونَ كَفَنِي . فَقَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ .
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «بردہ» ( چادر ) لے کر آئی ( ابوحازم نے پوچھا«بردہ» کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: «بردہ» شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے ) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا ( اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے ) اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ چادر کتنی اچھی ہے، یہ آپ مجھے پہنا دیجئیے، فرمایا: ٹھیک ہے ، پھر جب آپ اندر گئے تو اسے ( اتار کر ) تہ کیا، اور اس کے پاس بھجوا دی، لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے اس لیے پہنائی تھی کہ آپ کو اس کی حاجت تھی، پھر بھی تم نے اسے آپ سے مانگ لیا، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ کسی سائل کو نامراد واپس نہیں کرتے تو اس شخص نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن ہو، سہل کہتے ہیں: جب وہ مرے تو یہی چادر ان کا کفن تھی ۱؎۔
۰۷
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الصُّوفَ وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ وَلَبِسَ ثَوْبًا خَشِنًا خَشِنًا .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون کا ( سادہ اور موٹا ) لباس پہنا ہے، مرمت شدہ جوتا پہنا ہے اور انتہائی موٹا کپڑا زیب تن فرمایا ہے۔
۰۸
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ
" مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي . ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا " . قَالَهَا ثَلاَثًا .
" مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي . ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سِتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا " . قَالَهَا ثَلاَثًا .
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» یعنی: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي»یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہو گیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
۰۹
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۸
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ فَقَالَ " ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ " . قَالَ لاَ بَلْ غَسِيلٌ . قَالَ " الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا» نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو ۔
۱۰
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ فَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَىْءٌ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، ایک «اشتمال صماء» ۱؎ سے، دوسرے ایک کپڑے میں «احتباء» ۲؎ سے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو
۱۱
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَعَنِ الاِحْتِبَاءِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔
۱۲
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لِبْسَتَيْنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْتَ مُفْضٍ فَرْجَكَ إِلَى السَّمَاءِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے، اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ تم اپنی شرمگاہ کو آسمان کی طرف کھولے رہو۔
۱۳
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي يَا بُنَىَّ لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ .
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔
۱۴
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ مِنْ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَصَلَّى بِنَا فِيهَا لَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ غَيْرُهَا .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا بنا ہوا تنگ آستین والا رومی جبہ پہنے ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسی میں ہمیں نماز پڑھائی، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور لباس نہ تھا۔
۱۵
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۴
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ، حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ .
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر اون والے جبہ کو جو آپ پہنے ہوئے تھے الٹ دیا، اور اس سے اپنا چہرہ پونچھا۔
۱۶
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۵
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسِمُ غَنَمًا فِي آذَانِهَا وَرَأَيْتُهُ مُتَّزِرًا بِكِسَاءٍ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے کانوں میں داغتے دیکھا، اور میں نے آپ کو چادر کا تہبند پہنے دیکھا۔
۱۷
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
" خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید کپڑے ہیں، لہٰذا انہیں کو پہنو اور اپنے مردوں کو انہیں میں کفناؤ ۔
۱۸
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الْبَسُوا ثِيَابَ الْبَيَاضِ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ " .
" الْبَسُوا ثِيَابَ الْبَيَاضِ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ " .
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں ۔
۱۹
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ بِهِ فِي قُبُورِكُمْ وَمَسَاجِدِكُمُ الْبَيَاضُ " .
" إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ بِهِ فِي قُبُورِكُمْ وَمَسَاجِدِكُمُ الْبَيَاضُ " .
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے ۔
۲۰
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
" إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کپڑے فخر و غرور سے گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا ۔
۲۱
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ بِالْبَلاَطِ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ وَأَشَارَ إِلَى أُذُنَيْهِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
قَالَ فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ بِالْبَلاَطِ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ وَأَشَارَ إِلَى أُذُنَيْهِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
۲۲
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّ سَبَلَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ
" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ له يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ له يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
۲۳
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَسْفَلِ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ
" هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ . فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " .
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ .
" هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ . فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ " .
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ .
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
۲۴
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَيْئًا فِي الإِزَارِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ " . يَقُولُ ثَلاَثًا " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے ۔
۲۵
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ لاَ تُسْبِلْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " .
" يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ لاَ تُسْبِلْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفیان بن سہل! ( ٹخنہ کے نیچے ) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
۲۶
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۵
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الْقَمِيصِ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ( قمیص ) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔
۲۷
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَغْرَبَهُ .
" الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَغْرَبَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسبال»: تہبند، کرتے ( قمیص ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۱؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے
۲۸
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَلْبَسُ قَمِيصًا قَصِيرَ الْيَدَيْنِ وَالطُّولِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے جس کی آستین چھوٹی اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔
۲۹
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَبَايَعْتُهُ وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ . قَالَ عُرْوَةُ فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلاَ ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلاَ صَيْفٍ إِلاَّ مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا .
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں ( بٹن ) کھولے دیکھا ۱؎۔
۳۰
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۷۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ .
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہم سے پاجامے کا مول بھاؤ ( سودا ) کیا۔
۳۱
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا قَالَ " شِبْرًا " . قُلْتُ إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا . قَالَ ذِرَاعٌ لاَ تَزِيدُ عَلَيْهِ " .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں ۔
۳۲
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ رُخِّصَ لَهُنَّ فِي الذَّيْلِ ذِرَاعًا فَكُنَّ يَأْتِيَنَّا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ بِالْقَصَبِ ذِرَاعًا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے۔
۳۳
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لِفَاطِمَةَ أَوْ لأُمِّ سَلَمَةَ
" ذَيْلُكِ ذِرَاعٌ " .
" ذَيْلُكِ ذِرَاعٌ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو ۔
۳۴
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ " شِبْرًا " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذًا تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ . قَالَ " فَذِرَاعٌ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔
۳۵
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۴
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
۳۶
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے دن ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
۳۷
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
۳۸
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ .
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں
۳۹
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔
۴۰
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالإِسْتَبْرَقِ .
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) دیباج، حریر اور استبرق ( موٹا ریشمی کپڑا ) پہننے سے منع کیا ۱؎۔
۴۱
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَقَالَ
" هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ " .
" هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ " .
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔
۴۲
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " .
" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
۴۳
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، . أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، نَبَّأَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔
۴۴
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، إِلاَّ مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ الثَّانِيَةِ ثُمَّ الثَّالِثَةِ ثُمَّ الرَّابِعَةِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَانَا عَنْهُ .
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے ( حریر و دیباج ) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ۱؎ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔
۴۵
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ يَا جَارِيَةُ هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ وَالْجَيْبِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ .
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، ( ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا: ) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔
۴۶
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي الأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ فَقَالَ
" إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
" إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
۴۷
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِي هُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ إِمَّا سَدَاؤُهَا وَإِمَّا لُحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا قَالَ
" لاَ وَلَكِنِ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " .
" لاَ وَلَكِنِ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " .
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی ( جوڑا ) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو ۱؎۔
۴۸
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ وَفِي الأُخْرَى ذَهَبٌ فَقَالَ
" إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
" إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
۴۹
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔
۵۰
سنن ابن ماجہ # ۳۲/۳۵۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَجْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُتَرَجِّلاً فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ .
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا