Hadith

اسلام میں رحم کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd August 8, 2026 1 min read ۲۵۸ ویوز

رحم — 7 hadith.

1. Hadis Sambhar #1493

عَن جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخذٌ بحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَأنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدَيَّ رواه مسلم

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ بھڑکائی اور اس میں ٹڈیاں اور پتنگے گرائے جب وہ تھا تو وہ ان کو اس سے نکال دے گا اور میں تمہیں آگ سے بچاؤں گا جب کہ تم میرے ہاتھ سے بچ جاؤ گے۔“ مسلم نے روایت کیا ہے۔

Jaber (RA) — Hadis Sambhar #1493 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Sahih Al-Bukhari #4726

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرَهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، إِذْ قَالَ سَلُونِي قُلْتُ أَىْ أَبَا عَبَّاسٍ ـ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ـ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ، يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَى

ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریر نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے، دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی اور دیگر راوی کے مقابلہ میں بعض الفاظ زیادہ کہتا ہے اور ان کے علاوہ ایک اور صاحب نے بھی سعید بن جبیر سے سن کر بیان کیا کہ انہوں نے کہا ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کے گھر حاضر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دین کی باتیں مجھ سے کچھ پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعباس! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کوفہ میں

Ibn Juraij — Sahih Al-Bukhari #4726 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Jami' at-Tirmidhi #3180

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيَّ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْ

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان

'Aishah — Jami' at-Tirmidhi #3180 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Sahih Muslim #1429

قال مسلم: روى الأشجاعي هذا الحديث عن سفيان الثوري، الذي رواه عن الأسود بن قيس، الذي رواه عن شقيق بن عقبة، الذي رواه عن البراء بن عازب. قال البراء: "قرأنا هذه الآية مع النبي صلى الله عليه وسلم في وقت واحد"، فرواها على غرار حديث فضيل بن مرزوق. كل هذه الروايات تدل على أن الصلاة الوسطى هي صلاة العصر. وفي حديث عائشة فقط نُسبت صلاة العصر إلى الصلاة الوسطى. انطلاقًا من أن المقصود بالوسطى والمقصود به أمران مختلفان، قال بعض علماء المذهب الشافعي: "الوسطى ليست صلاة العصر"، لكنهم قالوا أيضًا: "لا يُستدل على

اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔

— Sahih Muslim #1429 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sahih Al-Bukhari #5673

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَلاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میرا بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے ( عمل می

Abu Huraira — Sahih Al-Bukhari #5673 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sahih Al-Bukhari #6584

قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ، سَهْلٍ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ وَهْوَ يَزِيدُ فِيهَا ‏ "‏ فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي‏.‏ فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ‏.‏ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سُحْقًا بُعْدًا، يُقَالُ سَحِيقٌ بَعِيدٌ، وَأَسْحَقَهُ أَبْعَدَهُ‏.‏

ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ( یعنی یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ) میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی ک

Abu Hazim added — Sahih Al-Bukhari #6584 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Mishkat al-Masabih #1606

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن شِئْتُم أنبأتكم مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ؟» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُول للْمُؤْمِنين هَل أَحْبَبْتُم لقائي؟ فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي ". رَوَاهُ فِي شَ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں سب سے پہلے بتا دوں گا جو اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے۔ قیامت کے دن؟ وہ اس سے پہلی بات کیا کہتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! اس نے کہا: "خدا مومنوں سے کہتا ہے، کیا تم مجھ سے ملنا پسند کرتے ہو؟" وہ کہتے ہیں: ہاں اے ہمارے رب۔ وہ کہتا ہے: کیوں؟ وہ کہتے ہیں: ہم آپ سے معافی اور بخشش کی امید رکھتے ہیں۔ تو وہ کہتا ہے: تم پر میری بخشش واجب ہو گئی۔ اسے شرح السنۃ اور ابو نعیم نے ح

— Mishkat al-Masabih #1606 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#mercy #hadith #islam