حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ
" لاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لاَ يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلاَّ ج
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستہ میں صدقہ کیا۔ پھر اسے آپ نے دیکھا کہ وہ بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس لیے ان کی خواہش ہوئی کہ اسے وہ خود ہی خرید لیں۔ اور اجازت لینے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ اسی وجہ سے اگر ابن عمر رضی اللہ عنہما
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان
ہم سے عبدااللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا نوف بکالی کہتا ہے ( جو کعب احبار کا رہیب تھا ) کہ جن موسیٰ کی خضر کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی وہ بنی اسرائیل کے ( رسول ) موسیٰ کے علاوہ دوسرے ہیں۔ ( یعنی موسیٰ بن میثا بن افراثیم بن یوسف بن یعقوب ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا دشمن خدا نے غلط کہا۔ مجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا: { أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -حَجَّ, فَخَرَجْنَا مَعَهُ, حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ, فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ, فَقَالَ: " اِغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ, وَأَحْرِمِي " وَصَلَّى رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -فِي اَلْمَسْجِدِ, ثُمَّ رَكِبَ اَلْقَصْوَاءَ 1 حَتَّى إِذَا اِسْتَوَتْ بِهِ عَلَى اَلْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: " لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ, لَبَّيْكَ لَا شَرِ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور ہم آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے۔ اسماء بنت عمیس کی ولادت ہوئی تو آپ نے فرمایا: غسل کرو اور کپڑے میں لپیٹ کر احرام باندھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر القصوٰۃ پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وہ صحرا میں آپ کے برابر ہو گیا۔ آپ نے اللہ کی وحدانیت کے اعلان سے آغاز کیا: "میں حاضر ہوں، اے معبود، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تیرا کوئی شریک
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي أَنَّحَمَلَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِلْمًا كَثِيرًا - قَالَ - فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ عَنْ أَشْيَاءَ يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عُرْوَةُ فَكَانَ فِيمَا ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ
عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے ابوشُریح نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابواسود نے عروہ بن زبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : بھانجے! مجھے خبر ملی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں ( مدینہ ) سے گزر کر حج پر جانے والے ہیں ۔ تم ان سے ملو اور ان سے سوال کرو ۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا علم حاصل کر کے محفوظ کر رکھا ہے ۔ ( عروہ نے ) کہا : میں ان سے ملا اور بہت سی چیزوں کے بارے میں ، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ، ان سے
قال مسلم: روى الأشجاعي هذا الحديث عن سفيان الثوري، الذي رواه عن الأسود بن قيس، الذي رواه عن شقيق بن عقبة، الذي رواه عن البراء بن عازب. قال البراء: "قرأنا هذه الآية مع النبي صلى الله عليه وسلم في وقت واحد"، فرواها على غرار حديث فضيل بن مرزوق. كل هذه الروايات تدل على أن الصلاة الوسطى هي صلاة العصر. وفي حديث عائشة فقط نُسبت صلاة العصر إلى الصلاة الوسطى. انطلاقًا من أن المقصود بالوسطى والمقصود به أمران مختلفان، قال بعض علماء المذهب الشافعي: "الوسطى ليست صلاة العصر"، لكنهم قالوا أيضًا: "لا يُستدل على
اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ( ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( ایمان لانے