روزہ — 7 hadith.
1. Musnad Ahmad #Ahmad 7904
جس نے روزہ دار کو افطار کرایا اس پر رمضان میں فرشتے درود بھیجتے ہیں اور شب قدر میں جبریل علیہ السلام اس پر درود بھیجتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) — Musnad Ahmad #Ahmad 7904 (Hasan)
2. Musnad Ahmad #Ahmad 9789
میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں۔
Abu Hurairah (RA) — Musnad Ahmad #Ahmad 9789 (Sahih)
3. Sahih Al-Bukhari #1906
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس دن پورے کر لو۔
'Abdullah bin 'Umar — Sahih Al-Bukhari #1906 (Sahih)
4. Sahih Muslim #2518
علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
— Sahih Muslim #2518 (Sahih)
5. Sahih Al-Bukhari #1907
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے ( انتیس پورے ہو جانے پر ) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔
'Abdullah bin 'Umar — Sahih Al-Bukhari #1907 (Sahih)
6. Sahih Al-Bukhari #1933
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔
Abu Huraira — Sahih Al-Bukhari #1933 (Sahih)
7. Al-Adab Al-Mufrad #166
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسماعیل کو عاصم بن لقیط بن صبرہ سے، وہ اپنے والد کی سند سے سنا، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور چراگاہ میں چرواہے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھکیل دیا، تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائیں دیں۔ فرمایا: مت سوچو، اور تم نے نہیں کیا۔ وہ کہتا ہے: یہ مت سمجھو کہ ہمارے پاس سو بھیڑیں ہیں اور ہم مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ اگر چرواہا بھیڑ کا بچہ لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بھیڑ ذب
— Al-Adab Al-Mufrad #166 (Sahih)
اہم نکات
مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں