Hadith

اسلام میں رحم کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd May 3, 2026 1 min read ১৮ ভিউ

رحم — 7 hadith.

1. Sahih Muslim #1429

قال مسلم: روى الأشجاعي هذا الحديث عن سفيان الثوري، الذي رواه عن الأسود بن قيس، الذي رواه عن شقيق بن عقبة، الذي رواه عن البراء بن عازب. قال البراء: "قرأنا هذه الآية مع النبي صلى الله عليه وسلم في وقت واحد"، فرواها على غرار حديث فضيل بن مرزوق. كل هذه الروايات تدل على أن الصلاة الوسطى هي صلاة العصر. وفي حديث عائشة فقط نُسبت صلاة العصر إلى الصلاة الوسطى. انطلاقًا من أن المقصود بالوسطى والمقصود به أمران مختلفان، قال بعض علماء المذهب الشافعي: "الوسطى ليست صلاة العصر"، لكنهم قالوا أيضًا: "لا يُستدل على

اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔

— Sahih Muslim #1429 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Hadis Sambhar #1493

عَن جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخذٌ بحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَأنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدَيَّ رواه مسلم

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ بھڑکائی اور اس میں ٹڈیاں اور پتنگے گرائے جب وہ تھا تو وہ ان کو اس سے نکال دے گا اور میں تمہیں آگ سے بچاؤں گا جب کہ تم میرے ہاتھ سے بچ جاؤ گے۔“ مسلم نے روایت کیا ہے۔

Jaber (RA) — Hadis Sambhar #1493 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Jami' at-Tirmidhi #3180

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيَّ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْ

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان

'Aishah — Jami' at-Tirmidhi #3180 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Sahih Al-Bukhari #4726

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرَهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، إِذْ قَالَ سَلُونِي قُلْتُ أَىْ أَبَا عَبَّاسٍ ـ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ـ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ، يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَى

ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریر نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے، دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی اور دیگر راوی کے مقابلہ میں بعض الفاظ زیادہ کہتا ہے اور ان کے علاوہ ایک اور صاحب نے بھی سعید بن جبیر سے سن کر بیان کیا کہ انہوں نے کہا ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کے گھر حاضر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دین کی باتیں مجھ سے کچھ پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعباس! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کوفہ میں

Ibn Juraij — Sahih Al-Bukhari #4726 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sunan Ibn Majah #1395

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدِيثًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ صَدَّقْتُهُ وَإِ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے ، مسعر کی روایت میں ہے: پھر نماز پڑ

It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said — Sunan Ibn Majah #1395 (Hasan)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sahih Muslim #3522

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ ب

سفیان ( بن عیینہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے امام زہری سے پوچھا : جنابِ ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے : "" بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے "" ؟ وہ ہنسے ، اور جواب دیا : یہ ( حدیث ) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ۔ سفیان نے کہا : میرے والد غنی تھے ، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہ

— Sahih Muslim #3522 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Sunan an-Nasa'i #3648

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ‏"‏‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ۱؎“۔

It was narrated that 'Aishah said — Sunan an-Nasa'i #3648 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#mercy #hadith #islam
শেয়ার: Facebook WhatsApp Twitter