Hadith

اسلام میں موت کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd August 2, 2026 1 min read ۲۵۲ ویوز

موت — 7 hadith.

1. Sahih Al-Bukhari #7170

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏"‏ مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلاَحُ هَذ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ”جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آ

Abu Qatada — Sahih Al-Bukhari #7170 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Al-Adab Al-Mufrad #193

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ عَجْلاَنَ أَبَا مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ قُبَيْلَ وَفَاتِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم‏:‏ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلاَ يُكَلَّفُ إِلاَّ مَا يُطِيقُ‏.‏

ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن عجلان نے بقیر کی روایت سے بیان کیا کہ عجلان ابو محمد نے ان سے ان کی وفات سے پہلے گفتگو کی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام کا اپنا کھانا اور لباس ہوتا ہے اور اس کو اس کے سوا کچھ نہیں دیا جاتا جس کی وہ استطاعت رکھتا ہو۔

— Al-Adab Al-Mufrad #193 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Sahih Al-Bukhari #3796

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر ( خندق کھودتے ہوئے ) یہ شعر پڑھتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب یہ سنا تو ) اس کے جواب میں یوں فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! آخرت کی زندگ

Anas bin Malik — Sahih Al-Bukhari #3796 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Mishkat al-Masabih #3267

عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ: لَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أَحَق أَن يسْجد لَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِأَنْ يُسْجَدَ لَكَ فَقَالَ لِي: «أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِى أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟» فَقُلْتُ: لَا فَقَالَ: «لَا تَفْعَلُوا لَو كنت آمُر أحد أَنْ يَسْجُدَ

قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں حیرہ کے پاس آیا اور دیکھا کہ وہ اپنے ایک زلف کو سجدہ کر رہے ہیں، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں الحیرہ آیا اور دیکھا کہ وہ اپنے ایک زلف کو سجدہ کر رہے ہیں، تو کیا آپ؟ کیا آپ کو سجدہ کرنے کا حق ہے؟ اس نے مجھ سے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا تم اس کو سجدہ کرو گے؟ تو میں نے کہا: نہیں،

Qais b. Sa'd said — Mishkat al-Masabih #3267 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sahih Al-Bukhari #7454

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ‏ "‏ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَهُ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَكْتُبُ رِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَعَمَلَهُ

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا زید بن وہب سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جو صادق و مصدق ہیں کہ انسان کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور راتوں تک جمع رہتا ہے پھر وہ خون کی پھٹکی بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا

'Abdullah bin Mas'ud — Sahih Al-Bukhari #7454 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sunan an-Nasa'i #1981

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ مَرِضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ شَىْءٍ عِيَادَةً لِلْمَرِيضِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي ‏"‏ ‏.‏ فَمَاتَتْ لَيْلاً فَدَفَنُوهَا وَلَمْ يُعْلِمُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْب

ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“ تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔

It was narrated that Abu Umamah bin Sahi said — Sunan an-Nasa'i #1981 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Al-Adab Al-Mufrad #36

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ تُرْفَعُ لِلْمَيِّتِ بَعْدَ مَوْتِهِ دَرَجَتُهُ‏.‏ فَيَقُولُ‏:‏ أَيْ رَبِّ، أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ‏؟‏ فَيُقَالُ‏:‏ وَلَدُكَ اسْتَغْفَرَ لَكَ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مرنے والے کو مرنے کے بعد ایک درجے تک اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا اے میرے رب یہ کیسا ہے؟ اسے کہا گیا، 'آپ کا بچہ معافی مانگ سکتا ہے۔ تمہارے لیے۔''

Abu Hurayra reported that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "What is the most frequent reason for someone entering Paradise?" He said, "Taqwa and good character. He was asked, "What is the most frequent reason for peop — Al-Adab Al-Mufrad #36 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#death #hadith #islam