ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان
قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم إني أعوذ بك من زوالي نعمتك، وتهوولي عفاتك، وفجاتي نكمتتك، وجامع سخطك». أي: «اللهم إني أعوذ بك من زوالي نعمتك، ومن تغير رحمتك وسعادتك، ومن عذابك المفاجئ، ومن سخطك وغضبك». [1666]
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہم انّ عوذ بکا من ذوالی نعمتک، و طحاولی عفیاتک، و فجاتی نکمتک، و جمیع سخاتک۔ ترجمہ: "اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں تیرے فضل کے بند ہونے سے، تیری رحمت اور خوشی کے بدل جانے سے، تیرے اچانک عذاب سے اور تیری ناراضگی اور غصے سے۔" [1666]
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جُبَيْرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي بَنِي سَلِمَةَ { وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ } قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلاَثَةٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَا فُلاَنُ " . فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ ا
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کا ایک انصاری صحابی سے مقام حرہ کی ایک نالی کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ اس سے کون اپنے باغ کو پہلے سینچنے کا حق رکھتا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زبیر! پہلے تم اپنے باغ سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کو جلد پانی دے دینا۔ اس پر اس انصاری صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! اس لیے کہ یہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟ یہ سن کر ن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". قَالَ فَقَالَ الأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائے
اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
میں میری ایک یہودی کے ساتھ مشترکہ زمین تھی، اور بعد میں اس یہودی نے میری ملکیت سے انکار کر دیا، اس لیے میں اسے اس کے پاس لے گیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے پاس اپنی ملکیت کا ثبوت ہے؟ جب میں نے نفی میں جواب دیا تو
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے بیعت لینے کو کہا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب نے بیان کیا، انہوں نے زہری کی سند سے کہا کہ مجھ سے عروہ بن الزبیر نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ان کا ایک انصاری آدمی سے جھگڑا ہوا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بدر کا مشاہدہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عورت کو آزاد کر دیا۔ وہ پانی کی قے کر رہے تھے۔ ان دونوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ پانی پلاؤ پھر اپنے پڑوسی کو بھیج دو۔ انصاری غصے میں آگئے اور
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ - قَالَ - فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ
ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے آپ کے لیے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے، آگے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ