صحیح مسلم — حدیث #۱۰۴۹۲
حدیث #۱۰۴۹۲
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ
أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ
يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)
راوی
محمد بی منقدیر
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۵/۲۹۲۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۵: اعتکاف