صحیح مسلم — حدیث #۱۰۶۸۵

حدیث #۱۰۶۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ وَهْىَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لاَ ‏.‏ فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَىَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَتِ ارْحَلْ بِي ‏.‏ فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَىْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا ‏.‏ قَالَتْ كَلاَّ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَذِنَ لِلظُّعُنِ ‏.‏
یحییٰ قطا ن نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے ( اندر بنے ہو ئے مشہور ) گھر کے پاس ٹھہری ہو ئی تھیں ، مجھ سے پوچھا : کیا چا ند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انھوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی ، پھر کہا : بیٹے !کیا چاندغروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ انھوں نے کہا : مجھے لے چلو ۔ تو ہم روانہ ہو ئے حتی کہ انھوں نے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں پھر ( فجر کی ) نماز اپنی منزل میں ادا کی ۔ تو میں نے ان سے عرض کی : محترمہ !ہم را ت کے آخری پہر میں ( ہی ) روانہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میرے بیٹے !نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ( پہلے روانہ ہو نے کی ) اجا زت دی تھی ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۵/۳۱۲۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۵: اعتکاف
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Prayer #Mother

متعلقہ احادیث