صحیح مسلم — حدیث #۱۲۱۹۵

حدیث #۱۲۱۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا، صَالَحُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏"‏ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ ‏"‏ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاَتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَكْتُبُ هَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ، ان میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " لکھو : بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگے : جہاں تک بسم اللہ کا تعلق ہے تو ہم بسم الله الرحمن الرحيم کو نہیں جانتے ، لیکن وہ لکھو جسے ہم جانتے ہیں : باسمك اللهم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " وہ لوگ کہنے لگے : اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے ، لیکن اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی کہ آپ لوگوں میں سے ( ہمارے پاس ) آ جائے گا ہم اسے آپ لوگوں کو واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو آپ کے پاس آیا آپ اسے ہم کو واپس کر دیں گے ۔ ( صحابہ نے ) پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھ دیں؟ فرمایا : " ہاں ، ہم میں سے جو شخص ان کے پاس چلا گیا تو اسے اللہ نے ہم سے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۲/۴۶۳۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۲: گمشدہ چیز
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mercy #Mother

متعلقہ احادیث