صحیح مسلم — حدیث #۱۲۴۷۸
حدیث #۱۲۴۷۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاَ أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ فَقَالَ " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا " . فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ " لاَ إِلاَّ مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا " . فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَىْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ " . فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ " . قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ بَخٍ بَخٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ " . قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا . قَالَ " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا " . فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ - قَالَ - فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ . ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ .
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی خبر لانے کے لئے بُسیسہ ( خزرجی انصاری ) رضی اللہ عنہ کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دیکھے ابوسفیان کے ( تجارتی ) قافلے کی کیا صورتِ حال ہے ۔ جس وقت وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں تھا ، ۔ ۔ ( ثابت نے ) کہا : مجھے انس رضی اللہ عنہ کا کسی ام المومنین کو مستثنیٰ کرنا معلوم نہیں ۔ ۔ کہا : اس نے آ کر آپ کو ساری بات بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : " ہمیں کچھ ( کرنا ) مطلوب ہے ، سو جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے ۔ " کچھ لوگ بالائی مدینہ میں ( موجود ) اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا : " نہیں ، صرف وہی لوگ ( ساتھ چلیں ) جن کی سواریاں یہیں موجود ہوں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پہنچ گئے ، مشرکین بھی آ پہنچے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص ، جب تک میں اس کے پیچھے نہ ہوں ، کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ۔ " مشرکین قریب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس جنت کی طرف بڑھ جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں ۔ " کہا : ( یہ سن کر ) حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یا رسول اللہ! جنت جس کا عرض آسمان اور زمین ہے؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " اس نے کہا : واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے یہ واہ واہ کس وجہ سے کہا؟ " اس نے کہا : اللہ کے رسول! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں ( کہا ) کہ میں ( بھی ) جنت والوں میں سے ہو جاؤں ، آپ نے فرمایا : " بلاشبہ تم اہل جنت میں سے ہو ۔ " حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں ، پھر کہنے لگے : اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا تو پھر یہ بڑی لمبی زندگی ہو گی ( یعنی جنت ملنے میں دیر ہو جائے گی ) ، پھر انہوں نے ، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں ، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۳/۴۹۱۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۳: جہاد