سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۱۵۰
حدیث #۱۸۱۵۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْخَيْلِ وَقَالَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ " . قَالَ اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ فَلاَ يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوهُ . فَنَادَى مُنَادٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ " . وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ فَغَصَّ بِهِمْ وَطَافَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَتَىِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَايَعُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ مَكَّةَ عَنْوَةً هِيَ قَالَ أَيْشٍ يَضُرُّكَ مَا كَانَتْ قَالَ فَصُلْحٌ قَالَ لاَ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے ( موت کی نیند ) سلا دیں ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر ( کھڑے ہوئے ) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح ( معاہدہ ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۰/۳۰۲۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۰: خراج اور امارت
موضوعات:
#Mother