سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۱۵۲
حدیث #۱۸۱۵۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ مَنْجُوفٍ - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ وَفْدَ، ثَقِيفٍ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يُحْشَرُوا وَلاَ يُعْشَرُوا وَلاَ يُجَبُّوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَكُمْ أَنْ لاَ تُحْشَرُوا وَلاَ تُعْشَرُوا وَلاَ خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ " .
عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر ( زکاۃ ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم جہاد کے لیے نہ نکالے جاؤ ( کیونکہ اور لوگ جہاد کے لیے موجود ہیں ) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے ( کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا ) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع ( نماز ) نہ ہو ۔
راوی
Uthman ibn Abul'As
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۰/۳۰۲۶
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۲۰: خراج اور امارت