سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۶۲۷

حدیث #۱۸۶۲۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ - أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلاَنٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ هَاءَ وَهَاءَ وَلاَ خِلاَبَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو ثَوْرٍ عَنْ سَعِيدٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ ( معاملہ کی پختگی میں ) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں ( کے خرید و فروخت ) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے ( جس سے نقصان پہنچتا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ۱؎ ۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے ) «عن سعيد» ہے۔
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۴/۳۵۰۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: اجرت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Patience #Mother #Knowledge

متعلقہ احادیث