سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۷۰۸

حدیث #۱۸۷۰۸
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی ) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء ( فیصلہ کرنے ) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
راوی
علی ابن ابوطالب رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۲
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۲۵: قضا
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Knowledge

متعلقہ احادیث