سنن ابو داؤد — حدیث #۱۹۰۵۶

حدیث #۱۹۰۵۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ‏.‏ فَقَالَتْ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِهِ ‏ "‏ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلاَنُ وَالْوَلاَءُ لِي إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
راوی
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۱: غلام آزاد کرنا
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث