سنن ابو داؤد — حدیث #۱۹۵۰۸
حدیث #۱۹۵۰۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، أَنَّ قَوْمًا، مِنَ الْكَلاَعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ فَقَالُوا خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلاَ امْتِحَانٍ . فَقَالَ النُّعْمَانُ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلاَّ أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ . فَقَالُوا هَذَا حُكْمُكَ فَقَالَ هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَىْ لاَ يَجِبُ الضَّرْبُ إِلاَّ بَعْدَ الاِعْتِرَافِ .
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎۔
راوی
ازہر بن عبداللہ الحریری رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۰/۴۳۸۲
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۴۰: حدود