سنن ابو داؤد — حدیث #۲۰۰۹۵
حدیث #۲۰۰۹۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ " مَا شَأْنُهُ " . قَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ فَقَالَ " يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر ( چڑیا ) کو؟ ۔
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۳/۴۹۶۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۴۳: ادب