ریاض الصالحین — حدیث #۴۶۵۲۷

حدیث #۴۶۵۲۷
وعن أبي طلحة زيد بن سهل رضي الله عنه قال‏:‏ كنا قعودًا بالأفنية نتحدث فيها فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالم علينا فقال‏:‏ ‏"‏ما لكم ولمجالس الصعدات‏؟‏ فقلنا‏:‏ إنما قعدنا لغير ما بأس، قعدنا نتذاكر، ونتحدث‏.‏ قال‏:‏ ‏"‏إما لا فأدوا حقها‏:‏ غض البصر، ورد السلام، وحسن الكلام‏"‏ ‏(‏‏(‏رواه مسلم‏)‏‏)‏‏.‏ ‏"‏الصُّعُدات‏"‏ بضم الصاد والعين، أي‏:‏ الطرقات‏.‏
حضرت ابو طلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم سے بات کی اور فرمایا: ”تمہیں اونچی جگہوں پر بیٹھنے سے کیا واسطہ؟ تو ہم نے کہا: ہم صرف اس لیے بیٹھے تھے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہم بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن نہیں، پھر وہی کرو جو تم پر واجب ہے: نگاہیں نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا اور حسن سلوک کرنا۔ "الکلام" (روایت مسلم نے))۔ "السعادت" دھم الصد کے ساتھ اور آنکھ، یعنی: سڑکیں۔
راوی
ابو طلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ
ماخذ
ریاض الصالحین # ۱۷/۱۶۲۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۷: باب ۱۷
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Prayer #Mother

متعلقہ احادیث