صحیح مسلم — حدیث #۷۶۰۵
حدیث #۷۶۰۵
روى لي محمد بن عبد الله قهزاد حديثًا قال فيه: سمعت عبد الله بن عثمان بن جبلة يقول: فقلت لعبد الله بن مبارك: من هذا الذي رويت عنه حديث عبد الله بن عمرو: «يوم عيد الفطر يوم هدايا»؟ فقال: يا سليمان بن حجاج، انظر جيدًا إلى الأحاديث التي معك (أو الأحاديث التي أخبرتك بها). قال ابن قهزاد: سمعت وهب بن زمعة يروي عن سفيان بن عبد الملك، فقال: قال عبد الله، أي ابن مبارك: رأيت روح بن غطيف، راوي الحديث، ودمه يعادل درهمًا واحدًا. جلست معه في مجلس، فاستحييت من أصحابي لرؤيتي أجلس معه مع كرهي لرواية الحديث له، لكرهه للحديث وعدم قبول روايته.
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔ ‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۴۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان