صحیح مسلم — حدیث #۷۸۷۳

حدیث #۷۸۷۳
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاقَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ تَرِبَتْ يَمِينُكِ ‏.‏ فَقَالَ لِعَائِشَةَ ‏ "‏ بَلْ أَنْتِ فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاكِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کی معیت میں خیبر کی طرف نکلے ، اللہ نے ہمیں فتح عنایت فرمائی ، غنیمت میں ہمیں سنا یا چاندی نہ ملا ، غنیمت میں سامان ، غلہ اور کپڑے ملے ، پھر ہم وادی ( القری ) کی طر ف چل پڑے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جو جذام قبیلے کے ایک آدمی نے ، جسے رفاعہ بن زید کہا جاتا تھا اور ( جذام کی شاخ ) بنو صبیب سے اس کا تعلق تھا ، آپ کو ہبہ کیا تھا ۔ جب ہم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ ﷺ کہ ( یہ ) غلام آپ کا پالان کھولنے کے لیے اٹھا ، اسے ( دور سے ) تیر کا نشانہ بنایا گیا اور اسی اس کی موت واقع ہو گئی ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسے شہادت مبارک ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ہرگز نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ! اوڑھنے کی وہ چادر اس پر آگ کے شعلے برسا رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن اس کے تقسیم ہونے سے پہلے اٹھائی تھی ۔ ‘ ‘ یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہو گئے ، ایک آدمی ایک یا دوتسمے لے آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! خیبر کے دن میں نے لیے تھے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ کا ایک تسمہ ہے یا آگ کے دو تسمے ہیں ۔ ‘ ‘
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۳۱۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Hellfire #Mother

متعلقہ احادیث