صحیح مسلم — حدیث #۸۹۵۵
حدیث #۸۹۵۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ " . فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے علقمہ بن مرثد سے حدیث سنائی ، انھوں نےسلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا آب نے فرمایا’’نمازوں میں ہمارے ساتھ موجود رہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے اندھیرے میں اذان کہی ، جب فجر طلوع ہوئی آب نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر جب سورج آسمان کے درمیان سے ڈھلا تو آپ نے انھیں ظہر کا حکم دیا ، پھر جب سورج ( ابھی ) اونچا تھا ، آپ نے انھیں عصر کا حکم دیا ، پھر جب سورج غروب ہوگیا تو آب نے انھیں مغرب کا حکم دیا ، پھر جب شفق نیچے چلی گئی تو انھوں نے صبح کو روشن ہونے دیا ( پھر فجر ادا کی ) ، پھر انھیں ظہر کا حکم دیا تو انھون نے اسے ٹھنڈا ہونے دیا ، پھر انھیں عصر کا حکم دیا جبکہ سورج ابھی سفید اور صاف تھا ، اس میں زردی کی کوئی آمیزش نہ تھی ، پہر انھیں شفق گر ( کر غائب ہو ) جانے سے قبل مغرب کے بارے میں حکم دیا ، پھر تہائی رات یا رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد انھیں عشاء کے بارے میں حکم دیا ۔ حرمی کو شک ہو ا ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے پوچھا ۔ سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا ، ان کے درمیان ( نمازوں کا ) وقت ہے ۔ ‘ ‘
راوی
ابو حمید رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح مسلم # ۵/۱۳۹۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: مساجد اور نماز کی جگہیں