دو عیدیں
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۲۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ غَيْرَ، وَاحِدٍ، مِنْ عُلَمَائِهِمْ يَقُولُ لَمْ يَكُنْ فِي عِيدِ الْفِطْرِ وَلاَ فِي الأَضْحَى نِدَاءٌ وَلاَ إِقَامَةٌ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَوْمِ . قَالَ مَالِكٌ وَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهَا عِنْدَنَا .
کہا مالک نے کہ میں نے سنا ہے بہت سارے علماء سے کہتے تھے عید الفطر اور عید الضحی میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک مالک نے کہا ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى الْمُصَلَّى .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کر تے تھے عید فطر کے دن قبل عید گاہ جانے کے۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
روایت ہے ابن شہاب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے عید الفطر اور عید الضحی کی قبل خطبے کے (یعنی خطبہ عیدین کا بعد نماز عیدین کے) پڑھتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ابوبکر اور عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَانَا يَفْعَلاَنِ ذَلِكَ .
اس نے مجھے مالک کی سند سے بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ ابوبکر اور عمر ایسا کرتے ہیں۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَالآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ وَقَالَ إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ - فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ .
ابو عبید سے جو مولیٰ ہیں عبدالرحمن بن ازہر کے روایت ہے کہ میں حاضر ہوا عید کے روز عمر بن خطاب کے ساتھ تو نماز پڑھی حضرت عمر نے پھر فارغ ہوئے اور خطبہ پڑھا تو کہا کہ یہ دو دن وہ دن ہیں کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے ان دنوں میں یہ عید الفطر کا دن ہے جس دن تم روزہ موقوف کرتے ہو اور عید الضحی وہ دن ہے کہ اس دن اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید نے کہا کہ پھر حاضر ہوا میں عید کو عثمان بن عفان کے ساتھ تو انہوں نے آکر نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ آج کے روزہ دو عید ہیں تو جس شخص کا جی چاہے باہر والوں سے تو ٹھہر جائے جمعہ کے واسطے اور جو چاہے کہ اپنے گھر جائے تو چلا جائے میں نے اجازت دی کہا ابوعبید نے پھر حاضر ہوا میں عید کو ساتھ علی بن ابی طالب کے اور عثمان گھرے ہوئے تھے تو حضرت علی نے آکر نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَأْكُلُ يَوْمَ عِيدِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ .
عروہ بن زبیر عیدالفطر کے روز کھانا کھا لیتے قبل نماز کو جانے کے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُؤْمَرُونَ بِالأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْغُدُوِّ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ أَرَى ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ فِي الأَضْحَى .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم ہوتا تھا کھانا کھا لینے کا قبل نماز کو جانے کے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ بِـ {ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}.
عمر بن خطاب نے پوچھا ابوواقد لیثی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سورتیں پڑھتے تھے عیدین میں بو لے سورت قاف اور سورت قمر ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الأَضْحَى وَالْفِطْرَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَكَبَّرَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الآخِرَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ . قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ وَجَدَ النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الصَّلاَةِ يَوْمَ الْعِيدِ إِنَّهُ لاَ يَرَى عَلَيْهِ صَلاَةً فِي الْمُصَلَّى وَلاَ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ إِنْ صَلَّى فِي الْمُصَلَّى أَوْ فِي بَيْتِهِ لَمْ أَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا وَيُكَبِّرُ سَبْعًا فِي الأُولَى قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَخَمْسًا فِي الثَّانِيَةِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ .
نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت کے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَلاَ بَعْدَهَا .
مجھ سے یحییٰ نے مالک اور نافع کی روایت سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فطر کے دن نماز سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھی۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى بَعْدَ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے اور نہ بعد نماز کے ۔ مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب عید گاہ کو جاتے تھے نماز صبح کی پڑھ کر قبل طلوع آفتاب کے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ الْقَاسِمَ، كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ، إِلَى الْمُصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ .
قاسم بن محمد قبل عیدگا جانے کے چار رکعتیں نفل اپنے گھر میں پڑھ کر جاتے تھے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ وہ نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے مسجد میں ۔