۳ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۵/۱۸۰۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کر تے ماننے اور طاعت کرنے پر تو شفقت اور رحمت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ جہاں تک تم کو طاقت ہو ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۵/۱۸۰۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ بَايَعْنَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِيَ وَلاَ نَقْتُلَ أَوْلاَدَنَا وَلاَ نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلاَ نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ مِثْلِ قَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
امیمہ بنت رقیقہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ کے پاس آئی بہت سی عورتوں میں جو بیعت کرنے کو آئی تھیں دین اسلام پر ان عورتوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرتی ہیں اس بات پر کہ شریک نہ کریں گی ساتھ اللہ کے کسی چیز کو اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو ماریں گی اور نہ بہتان باندھیں گی اپنی اپنی طرف سے اسی پر اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کریں گی شروع کے کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمال شفقت اور محبت سے فرمایا جہاں تک تمہاری طاقت یا قدرت ہے
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵۵/۱۸۱۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏.‏ أَمَّا بَعْدُ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ سَلاَمٌ عَلَيْكَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ وَأُقِرُّ لَكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کو لکھا بیعت نامہ اس مضمون سے بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جل جلالہ کے بندے سلام ہو تجھ پر میں تعریف کرتا ہو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور اقرار کرتا ہوں تیری بات سننے اور اطاعت کرنے کا اللہ جل جلالہ کے حکم کے موافق اور اس کے رسول کی سنت کے موافق جہاں تک کہ مجھے قدرت ہے ۔