مظلوم کی دعا
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۶۰/۱۸۵۷
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَىُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ النَّاسِ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّاىَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَيْسَرُ عَلَىَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلاَدُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الإِسْلاَمِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلاَدِهِمْ شِبْرًا .
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مولیٰ کو جس کا نام ہنی تھا عامل مقرر کیا حمی پر (حمی وہ احاطہ ہے جہاں صدقے کے جانور جمع ہوتے ہیں) اور کہا کہ اے ہنی اپنا بازو روکے رہ لوگوں سے، ظلم مت کر کیونکہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور جس کے پاس تیس اونٹ ہیں یا چالیس بکریاں ان کو چرانے سے مت روک اور بچا رہ عثمان نعم بن عضان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں پر رعایت کرنے سے کیونکہ اگر ان کے جانور تباہ ہو جائیں گے تو وہ اپنے باغات اور کھتیوں میں چلے آئیں گے اور تیس اونٹ والا اور چالیس والا اگر تباہ ہو جائے گا تو وہ اپنی اولاد کو لے کر میرے پاس آئے گا اور کہے گا اے امیرالمومنین اے امیرالمومنیں پھر کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا ان کی خبر گیری نہ کروں گا، تیرا باپ نہ ہو (یہ ایک بد دعا ہے عرب کے محاورے میں) پانی اور گھاس دینا آسان ہے مجھ پر سونا چاندی دینے سے قسم اللہ کی وہ جانتا ہے کہ میں نے ان پر ظلم کیا حالانکہ وہ ان کی زمین ہے اور انہی کا پانی ہے، جس پر لڑے زمانہ جاہلیت میں پھر مسلمان ہوئے اسی زمین اور پانی پر ، قسم اللہ کی اگر یہ صدقہ کے جانور نہ ہوتے جو انہی کے کام میں آتے ہیں اللہ کی راہ میں تو ان کی زمین سے ایک بالشت بھر بھی نہ لیتا ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۶۰/۱۸۶۰
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَىُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ النَّاسِ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّاىَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَيْسَرُ عَلَىَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلاَدُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الإِسْلاَمِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلاَدِهِمْ شِبْرًا .
اس نے مجھ سے مالک کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، اپنے والد کی سند سے بیان کیا کہ عمر بن الخطاب نے اپنے حنیہ علی الہیما نامی ایک خادم کو ملازم رکھا، اور اس نے کہا: اپنے پروں کو لوگوں سے دور رکھو، اور مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے، رب کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور کے رب مال غنیمت، اور میں، اور نعم ابن عوف، اور نعم ابن عفان، کیونکہ اگر ان کے مویشی تباہ ہو گئے تو وہ کھجور کے درختوں اور فصلوں کی طرف لوٹ جائیں گے، اور بے شک رب غنیمت کی قسم، اگر ان کے مویشی ہلاک ہو جائیں تو وہ اپنے بیٹوں کو میرے پاس لے آئے گا اور کہے گا کہ اے وفاداروں کے سردار، میں ان کو چھوڑ دوں گا؟ میں تمہارا باپ نہیں ہوں۔ پانی اور چراگاہ میرے لیے سونے اور کاغذ سے زیادہ آسان ہے۔ خدا کی قسم وہ دیکھیں گے کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے۔ یہ ان کا ملک ہے۔ اور ان کا پانی، وہ زمانہ جاہلیت میں اس پر لڑے تھے اور اسلام میں اس پر ان کا استقبال کیا گیا تھا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ مال نہ ہوتا جو میں اٹھاتا ہوں۔ خدا کے نام پر، میں نے ان کو ان کے ملک سے ایک مدت تک نہیں بچایا۔