۵۷ حدیث
۰۱
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۱
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهْوَ خَلَقَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ‏ يَلْقَ أَثَامًا}‏ الآيَةَ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا۔“ آخر آیت تک۔
۰۲
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا ‏"‏‏.‏
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے ( اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے ) جب تک ناحق خون نہ کرے جہاں ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔“
۰۳
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۳
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ مِنْ وَرْطَاتِ الأُمُورِ الَّتِي لاَ مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا، سَفْكَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ‏.‏
مجھ سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔
۰۴
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۴
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے۔“
۰۵
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۵
المقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ، شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ‏.‏ آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَىَّ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، آقْتُلُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمِقْدَادِ ‏"‏ إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏.‏
مقداد بن عمرو کندی بیان کرتے ہیں کہ بنی زہرہ کے ایک ساتھی نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں حصہ لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا رسول اللہ! اگر میں کسی کافر سے ملوں اور ہماری لڑائی ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ مارے اور اسے کاٹ دے، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پناہ لی اور کہا کہ میں ایک درخت کے نیچے آ گیا۔ اسلام قبول کر لیا)، کیا میں اسے اس کے کہنے کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے قتل نہ کرو۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا تھا اور اس کے کاٹنے کے بعد فرمایا تھا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "اسے قتل مت کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ اس مقام پر ہوگا جس میں تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے، اور تم اس مقام پر ہو گے جس میں وہ جملہ کہنے سے پہلے تھا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد سے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی مومن اپنے ایمان (اسلام کو) کافروں سے چھپائے اور پھر جب وہ اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو تم اسے قتل کر دو، (تم گنہگار ہو گے) یاد رہے کہ تم اس سے پہلے مکہ میں بھی اپنے ایمان (اسلام) کو چھپا رہے تھے۔
۰۶
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۶
المقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ، شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ‏.‏ آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَىَّ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، آقْتُلُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمِقْدَادِ ‏"‏ إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏.‏
بنی زہرہ کا ایک حلیف جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں حصہ لیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! رسول! اگر میں کسی کافر سے ملوں اور ہماری لڑائی ہو اور وہ تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے اسے اتار دیتا ہے اور پھر مجھ سے ایک درخت کے نیچے پناہ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ اسلام قبول کر لیا، تو کیا میں اس کے کہنے کے بعد اسے قتل کر دوں؟'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ مقداد نے کہا لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا تھا اور فرمایا اسے کاٹ دیا تھا. کیا میں اسے قتل کر سکتا ہوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ اس میں ہو گا۔ جس مقام پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے، اور تم اس مقام پر ہو گے جس میں وہ تھا۔ وہ جملہ کہنے سے پہلے تھا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد سے بھی فرمایا: "اگر کوئی مومن چھپائے اس کا ایمان (اسلام) کافروں سے، پھر جب اس نے اپنے اسلام کا اعلان کیا تو تم اسے قتل کر دو، گناہگار)۔ یاد رکھو کہ تم پہلے بھی مکہ میں اپنے ایمان (اسلام) کو چھپا رہے تھے۔"
۰۷
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۷
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ‏"‏‏.‏
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے۔“
۰۸
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۸
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں واقد بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو میرے والد نے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
۰۹
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۶۹
ابو زرعہ بن عمرو بن جریر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏
"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو , ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
۱۰
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۰
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ‏"‏‏.‏ شَكَّ شُعْبَةُ‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَقَتْلُ النَّفْسِ ‏"‏‏.‏
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
۱۱
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ ‏"‏‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
۱۲
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۲
اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ـ قَالَ ـ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ـ قَالَ ـ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ قَالَ ـ فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَىَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ‏.‏
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف ( مہم پر ) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
۱۳
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۳
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ، بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا۔
۱۴
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۴
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
۱۵
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۵
احنف بن قیس رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ‏.‏ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے احنف بن قیس نے کہ میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔
۱۶
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۶
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَوْ فُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا ( تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔
۱۷
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ـ قَالَ ـ فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ـ قَالَ ـ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا قَالَ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ‏.‏
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا ) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔
۱۸
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۸
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ الْجَمَاعَةَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مرہ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا ( مرتد ) جماعت کو چھوڑ دینے والا۔“
۱۹
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۷۹
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ ‏
"‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏‏.‏ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَجَرَيْنِ‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔
۲۰
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خُزَاعَةَ، قَتَلُوا رَجُلاً‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلاَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلاَّ مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا يُودَى وَإِمَّا يُقَادُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏ وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ فِي الْفِيلِ، قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَتْلَ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا، ان سے حرب بن شداد نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع ) کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے ( شاہ یمن ابرہہ کے ) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی۔ ( سن لو ) اس کا کانٹا نہ اکھاڑا جائے، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہا دیا جائے یا قصاص دیا جائے۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھیوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے «القتل‏.‏» کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے۔
۲۱
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ‏{‏كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى‏}‏ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، قَالَ ‏{‏فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت کی صورت نہیں تھی۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا «كتب عليكم القصاص في القتلى‏» الخ۔ ابن عباس نے کہا «فمن عفي له من أخيه شىء‏» سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور «فاتباع بالمعروف‏» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں «وآداء اليه باحسان» سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔
۲۲
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۲
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلاَثَةٌ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں ( مسلمانوں ) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں۔ حرم میں زیادتی کرنے والا، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔
۲۳
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۳
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ يَا عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَبِي أَبِي‏.‏ فَقَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ‏.‏
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مشرکین نے احد کی لڑائی میں پہلے شکست کھائی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ( غلطی میں ) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔
۲۴
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۴
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏ وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ بِحَجَرَيْنِ‏.‏
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے ( ہاں ) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔
۲۵
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۵
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔
۲۶
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَدَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ لُدَّ، غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ( مرض الوفات کے موقع پر ) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
۲۷
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ وَبِإِسْنَادِهِ ‏"‏ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
۲۸
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ وَبِإِسْنَادِهِ ‏"‏ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
۲۹
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۸۹
یحییٰ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ،، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔
۳۰
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ فَقَالَ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي‏.‏ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ‏.‏ قَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ‏.‏
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے خبر دی، کہا ہم کو ہمارے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے کی طرف والوں سے بچو! چنانچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے ( جو مسلمان ہی تھے ) بھڑ گئے۔ اچانک حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آخر وقت تک رہا۔
۳۱
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۱
سلامہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ‏.‏ فَحَدَا بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ السَّائِقُ ‏"‏ قَالُوا عَامِرٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ رَحِمَهُ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلاَّ أَمْتَعْتَنَا بِهِ‏.‏ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ حَبِطَ عَمَلُهُ، قَتَلَ نَفْسَهُ‏.‏ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ، إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، وَأَىُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے، اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر! ہمیں اپنی حدی سنائیے۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا۔ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی ( کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے ) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ ( اللہ کے راستہ میں ) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہو گا؟
۳۲
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۲
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏
"‏ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لاَ دِيَةَ لَكَ ‏"‏‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے زرارہ بن ابی اوفی سے سنا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
۳۳
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۳
یعلیٰ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ، فَعَضَّ رَجُلٌ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔
۳۴
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۴
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ، لَطَمَتْ جَارِيَةً، فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ‏.‏
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نضرت کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا۔
۳۵
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ‏"‏، يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ‏.‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اور یہ ایک ہی ہیں۔ اس کی مراد چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے تھی۔
۳۶
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۶
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ غُلاَمًا، قُتِلَ غِيلَةً فَقَالَ عُمَرُ لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ‏.‏ وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا فَقَالَ عُمَرُ مِثْلَهُ‏.‏ وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلِيٌّ وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ‏.‏ وَأَقَادَ عُمَرُ مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ‏.‏ وَأَقَادَ عَلِيٌّ مِنْ ثَلاَثَةِ أَسْوَاطٍ‏.‏ وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ‏.‏
اور مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء ( یمن کے لوگ ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔
۳۷
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ، وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا ‏"‏ لاَ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْنَا كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ لُدَّ ـ وَأَنَا أَنْظُرُ ـ إِلاَّ الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے ( اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں ) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
۳۸
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۸
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا‏.‏ قَالُوا مَا قَتَلْنَا وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً‏.‏ فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلاً‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الْكُبْرَ الْكُبْرَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيَحْلِفُونَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ‏.‏ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور ( اپنے اپنے کاموں کے لیے ) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ ( یہودی ) قسم کھائیں گے ( اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا ) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ( خود ہی ) دیت میں دیئے۔
۳۹
صحیح بخاری # ۸۷/۶۸۹۹
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مِنْ آلِ أَبِي قِلاَبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ قَالَ نَقُولُ الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ‏.‏ قَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلاَبَةَ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَكَ رُءُوسُ الأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، لَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ قَالَ لاَ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ قَالَ لاَ‏.‏ قُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطُّ، إِلاَّ فِي إِحْدَى ثَلاَثِ خِصَالٍ رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ‏.‏ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَسَمَرَ الأَعْيُنَ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ‏.‏ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا‏.‏ قُلْتُ وَأَىُّ شَىْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلاَءِ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا‏.‏ فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ‏.‏ فَقُلْتُ أَتَرُدُّ عَلَىَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ قَالَ لاَ، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللَّهِ لاَ يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ‏.‏ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ آنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَ فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ وَقَالُوا قَتَلَ صَاحِبَنَا‏.‏ فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ‏.‏ فَقَالَ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ‏.‏ قَالَ فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلاً، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلاً آخَرَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالُوا فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ، أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلاً ثُمَّ مَاتَ‏.‏ قُلْتُ وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلاً بِالْقَسَامَةِ ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں ( اشراف عرب ) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ ( ابوقلابہ ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے ( خیبر کے ارادہ سے ) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں ( خیبر میں ) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں ( کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا ( ابوقلابہ نے کہا کہ ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو ( جس نے قتل کیا تھا ) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔
۴۰
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۰
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
۴۱
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۱
سہل بن سعد السعدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي باب رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ أَعْلَمُ أَنْ تَنْتَظِرَنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ ‏"‏‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( گھر کے اندر آنے کا ) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔
۴۲
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں ( جب کہ تم گھر کے اندر ہو ) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
۴۳
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۳
الشعبی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ وَقَالَ مَرَّةً مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلاَّ مَا فِي الْقُرْآنِ، إِلاَّ فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ، وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ‏.‏ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ‏.‏
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا ( دیت ) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
۴۴
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس ( سلسلہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔
۴۵
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۵
ہشام رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ فَقَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ‏.‏
ہشام کے والد مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ: عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے اسقاط حمل (کسی اور کی وجہ سے) کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ غلام یا عورت غلام کو دیا جائے۔ پھر محمد بن مسلمہ نے گواہی دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فیصلہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔
۴۶
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۶
ہشام رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ فَقَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے اسقاط کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ (کسی اور کی وجہ سے)۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فیصلہ کہ مرد یا عورت غلام کو دیا جائے (بطور دیہ)۔ پھر محمد بن مسلمہ نے گواہی دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ ایسا فیصلہ دینا.
۴۷
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۷
ہشام رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عُمَرَ، نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي السِّقْطِ وَقَالَ الْمُغِيرَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا‏.‏
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
۴۸
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۸
عروہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عُمَرَ، نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي السِّقْطِ وَقَالَ الْمُغِيرَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ قَالَ ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصلہ سناتے ہوئے کس نے سنا؟ اسقاط حمل کے بارے میں؟" المغیرہ نے کہا، "میں نے اسے یہ فیصلہ کرتے ہوئے سنا ہے کہ a غلام ہو یا عورت غلام کو (دیہ کے طور پر)۔" عمر نے کہا۔ "اپنے بیان کی گواہی کے لیے ایک گواہ پیش کرو۔" محمد بن مسلمہ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔
۴۹
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۰۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین ( کے گرنے ) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی۔
۵۰
صحیح بخاری # ۸۷/۶۹۱۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ قَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا‏.‏
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے ( جنین ) سمیت مر گئی۔ پھر ( مقتولہ کے رشتہ دار ) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ ( عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔