عمرہ
ابواب پر واپس
۰۱
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى هِيَ لِلْوَارِثِ " .
" الْعُمْرَى هِيَ لِلْوَارِثِ " .
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“ ۱؎۔
۰۲
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۱
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، يُحَدِّثُ عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
" الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔
۰۳
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ .
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ عمریٰ وارث کا حق ہے۔
۰۴
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، عَرَضَ عَلَىَّ مَعْقِلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلاَ تَرْقُبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِسَبِيلِهِ " .
" مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ وَلاَ تَرْقُبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِسَبِيلِهِ " .
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز ( صرف ) عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز جس کو دی ہے اس کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مر جانے کے بعد بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) رقبیٰ نہ کرو کیونکہ جس نے رقبیٰ کیا ہے ( وہ اسے نہ ملے گی ) وہ موہوب لہ کے راستہ ہی میں رہے گی“ ۱؎۔
۰۵
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۴
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ الْحَجُورِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“ ۱؎۔
۰۶
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۵
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
" إِنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
۰۷
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ طَاوُسٍ، بَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى .
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ کو کاٹ کر الگ کر دیا ۱؎۔
۰۸
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۷
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَهُمْ فَقَالَ
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
۰۹
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۸
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى . قُلْتُ وَمَا الرُّقْبَى قَالَ يَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ . فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَهُوَ جَائِزَةٌ .
عطاء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ سے روکا ہے، ( راوی حدیث عبدالکریم کہتے ہیں کہ ) میں نے ( عطاء سے ) پوچھا: رقبیٰ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آدمی آدمی سے کہے کہ یہ چیز زندگی بھر کے لیے تمہاری ہے، اگر تم نے اس طرح کہہ کر دیا تو یہ چیز نافذ ہو گی یعنی ہمیشہ کے لیے اس کی ہو جائے گی جسے تم نے دی ہے۔
۱۰
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۲۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
۱۱
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أُعْطِيَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ " .
" مَنْ أُعْطِيَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ " .
عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز صرف زندگی بھر برتنے کے لیے دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
۱۲
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ تُرْقِبُوا وَلاَ تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
" لاَ تُرْقِبُوا وَلاَ تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ رقبیٰ اور عمریٰ نہ کیا کرو۔ ( جان لو ) اگر کوئی چیز کسی کو بطور رقبیٰ یا بطور عمریٰ دی گئی تو جس کو دی گئی ہے ( اس کے نہ رہنے پر ) اس کے ورثاء کی ہو جائے گی“۔
۱۳
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۲
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ عُمْرَى وَلاَ رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
" لاَ عُمْرَى وَلاَ رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اور رقبیٰ ( مناسب ) نہیں ہے اور اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
۱۴
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۳
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، { قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، } قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ عُمْرَى وَلاَ رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " . قَالَ عَطَاءٌ هُوَ لِلآخَرِ .
" لاَ عُمْرَى وَلاَ رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " . قَالَ عَطَاءٌ هُوَ لِلآخَرِ .
حبیب بن ابی ثابت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، (اور امام نسائی کہتے ہیں انہوں نے ان سے سنا نہیں ہے) ۱؎ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ عمریٰ ( مناسب ) ہے اور نہ رقبیٰ لیکن اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے پر بھی“، عطاء کہتے ہیں: ( دونوں دینے اور پانے والوں میں سے ) آخر والے کو ملے گا۔
۱۵
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۴
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقْبَى وَقَالَ
" مَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ لَهُ " .
" مَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ لَهُ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کرنے سے منع کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے: ”جس شخص کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی وہ چیز ( ہمیشہ کے لیے ) اسی کی ہو جائے گی“۔
۱۶
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو کوئی چیز عمریٰ میں دی گئی تو وہ اسی کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
۱۷
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۶
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ امْسِكُوا عَلَيْكُمْ - يَعْنِي أَمْوَالَكُمْ - لاَ تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
" يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ امْسِكُوا عَلَيْكُمْ - يَعْنِي أَمْوَالَكُمْ - لاَ تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! اپنے مال اپنے پاس روکے رکھو اور اسے عمریٰ میں نہ دو کیونکہ اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ میں دی ( تو وہ چیز اسے پھر واپس نہ ملے گی ) وہ اس کی ہو جائے گی جسے اس نے عمریٰ میں دی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“ ۱؎۔
۱۸
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" امْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلاَ تُعْمِرُوهَا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " .
" امْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلاَ تُعْمِرُوهَا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا مال اپنے پاس روک کر رکھو اور اس کا عمریٰ نہ کرو، کیونکہ جسے کوئی چیز اس کی زندگی بھر کے لیے عمریٰ میں دی گئی تو وہ چیز اس کی زندگی بھر کے لیے ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد کے لیے بھی“۔
۱۹
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا " .
" الرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ اس کا ہے جس کے لیے رقبیٰ کیا گیا“۔
۲۰
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۳۹
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " .
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو گا اور رقبیٰ بھی اسی کے گھر والوں کا ہے جس کو رقبیٰ میں دیا گیا ہے“۔
۲۱
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۰
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
" مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز عمر بھر کے لیے دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو گی اور اس کی اولاد کی ہو گی، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے، وہی اس کے بھی وارث ہوں گے“۔
۲۲
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۱
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس شخص کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، پھر اس کے بعد اس کی اولاد کا ہے، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے“ ۱؎۔
۲۳
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
" الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، یہ ( زندگی بھر ) اس کا رہے گا، اور ( مرنے کے بعد ) اس کی اولاد کا ہو گا، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس کے وارث ہوں گے“۔
۲۴
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۳
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ وَلِمَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ مَوْرُوثَةٌ " .
" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ وَلِمَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ مَوْرُوثَةٌ " .
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے کسی آدمی کو یہ کہہ کر کوئی چیز عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے، اور اس کے اولاد کی ہے تو وہ اس کی ہو گی، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد میں سے جو اس کا وارث ہو گا اس کی ہو گی“۔
۲۵
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" مَنْ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ " .
" مَنْ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کی کہ یہ اس کی ہے اور اس کی اولاد کی ہے تو اس کی اس بات نے اس کے حق کو کاٹ دیا، یعنی ہمیشہ کے لیے اس کا حق ختم ہو گیا، اب وہ چیز ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گی جس کو عمریٰ میں دی گئی ہے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد کی ہو گی“۔
۲۶
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
" أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز اس کی عمر بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارث کو دی گئی تو وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے دی گئی ہے، دینے والے کو واپس نہ ہو گی کیونکہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں وراثت کا قانون جاری ہو گا“۔
۲۷
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۶
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْمِرَهَا يَرِثُهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْطَاهَا مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس شخص نے کسی کو کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کیا کہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہو گا جسے اس نے عمریٰ کیا ہے، اور اس کے ساتھی سے جسے اس نے دیا ہے اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصوں اور اس کے حق کے مطابق اس کے ورثاء وارث ہوں گے ( دینے والے کو کچھ نہیں لوٹے گا ) ۔
۲۸
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةٌ لاَ يَجُوزُ لِلْمُعْطِي مِنْهَا شَرْطٌ وَلاَ ثُنْيَا . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتِ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جسے کوئی چیز عمری کی گئی ہو کہ یہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے فیصلہ صادر فرمایا کہ دینے والے کو اس میں کوئی شرط لگانا اور کوئی استثناء کرنا جائز و درست نہیں ہے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث کا قانون ہو گیا اور اس کی شرط کو باطل کر دیا ( یعنی وہ شرط لغو قرار دے دی ) ۔
۲۹
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۸
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ قَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلاً عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ قَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی شخص اور اس کی اولاد کو عمریٰ کیا اور کہا کہ میں نے اسے تم کو اور تمہاری اولاد کو دے دیا ہے جب تک کہ کوئی بھی ان میں سے زندہ رہے، تو وہ چیز اسی کی ہو جائے گی جسے وہ چیز دی گئی ہے، اب وہ چیز دینے والے کو واپس نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس نے اسے دیا ہی اس انداز سے ہے کہ اس میں میراث نافذ ہو گی“۔
۳۰
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۴۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْعُمْرَى أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَلِعَقِبِهِ الْهِبَةَ وَيَسْتَثْنِي إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ وَبِعَقِبِكَ فَهُوَ إِلَىَّ وَإِلَى عَقِبِي إِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَلِعَقِبِهِ .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمریٰ کے سلسلہ میں ایک شخص نے ایک شخص کو اور اس کی اولاد کو کوئی چیز ہبہ کی اور اس بات کا استثناء کیا کہ اگر تمہارے ساتھ اور تمہاری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا یا تو یہ چیز میری اور میری اولاد کی ہو جائے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ وہ چیز اس کی ہو گی جس کو دے دی گئی ہے اور اس کے اولاد کی ہو گی ( استثناء کا کوئی حاصل نہ ہو گا ) ۔
۳۱
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
" الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
۳۲
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۱
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
" الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا“۔
۳۳
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۲
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
" لاَ عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ( کرنا اچھا ) نہیں ہے، لیکن جس کسی کو عمریٰ میں کوئی چیز دے دی گئی تو وہ چیز اس کی ( ہمیشہ کے لیے ) ہو گئی“۔
۳۴
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۳
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس آدمی کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی تو وہ چیز اسی کی ( ہمیشہ کے لیے ) ہو گئی“۔
۳۵
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“۔
۳۶
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَأَلَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ عَنِ الْعُمْرَى، فَقُلْتُ حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ . قَالَ قَتَادَةُ وَقُلْتُ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . قَالَ قَتَادَةُ وَقُلْتُ كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِنَّمَا الْعُمْرَى إِذَا أُعْمِرَ وَعَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ عَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لِلَّذِي يَجْعَلُ شَرْطُهُ . قَالَ قَتَادَةُ فَسُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ كَانَ الْخُلَفَاءُ لاَ يَقْضُونَ بِهَذَا . قَالَ عَطَاءٌ قَضَى بِهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ .
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حسن بصری کہتے تھے کہ عمریٰ نافذ ہو گا ( جس کے لیے عمریٰ کیا جاتا ہے وہ چیز اسی کی ہمیشہ کے لیے ہو جاتی ہے ) ۔ قتادہ کہتے ہیں: زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے ( تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا ) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو۔ قتادہ کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ نافذ ہو گا“، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا: خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے، تو عطاء نے کہا: اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے۔
۳۷
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ - وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ هِبَةٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا " . اللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ .
" لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ هِبَةٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا " . اللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ .
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جب اس کی عصمت کا مالک اس کا شوہر ہو گیا جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے ہبہ و بخشش کرے“، اس حدیث کے الفاظ ( راوی حدیث ) محمد بن معمر کے ہیں۔
۳۸
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۷
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ح وَأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ
" لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " .
" لاَ يَجُوزُ لاِمْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا " .
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں“۔
۳۹
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۸
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ ثَقِيفٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُمْ هَدِيَّةٌ فَقَالَ
" أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ كَانَتْ هَدِيَّةً فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ وَإِنْ كَانَتْ صَدَقَةً فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالُوا لاَ بَلْ هَدِيَّةٌ . فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ وَقَعَدَ مَعَهُمْ يُسَائِلُهُمْ وَيُسَائِلُونَهُ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ مَعَ الْعَصْرِ .
" أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَإِنْ كَانَتْ هَدِيَّةً فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ وَإِنْ كَانَتْ صَدَقَةً فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالُوا لاَ بَلْ هَدِيَّةٌ . فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ وَقَعَدَ مَعَهُمْ يُسَائِلُهُمْ وَيُسَائِلُونَهُ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ مَعَ الْعَصْرِ .
عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ ہدیہ ہے، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ۱؎۔
۴۰
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۵۹
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " .
" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎“۔
۴۱
سنن نسائی # ۳۴/۳۷۶۰
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَقِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔