۶۷ حدیث
۰۱
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۰۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏
"‏ مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۱؎۔
۰۲
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۰۹
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَسَدَّدَهُ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔
۰۳
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۰
It Was
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلاَ أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں ( جوان ) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۱؎۔
۰۴
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۱
It Was
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔
۰۵
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۲
عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ حُسَيْنٍ، - يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مدد قاضی ( فیصلہ کرنے والے ) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
۰۶
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۳
It Was
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ۱؎۔
۰۷
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۴
It Was
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، - مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏
قَالَ يَزِيدُ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة‏.‏َ
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
۰۸
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۵
ابو ہاشم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، قَالَ لَوْلاَ حَدِيثُ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ اثْنَانِ فِي النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ جَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ لَقُلْنَا إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏
ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد ( بریدہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا ( یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا ) تو وہ بھی جہنمی ہو گا ( اگر یہ حدیث نہ ہوتی ) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔
۰۹
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۶
عبد الملک بن عمیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ لاَ يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ‏.‏
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۱؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔
۱۰
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۷
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلاَ يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔
۱۱
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
۱۲
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۱۹
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے ۔
۱۳
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۰
It Was
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ - أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ - لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے ۱؎۔
۱۴
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنِ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۱؎۔
۱۵
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۲
It Was
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ لِلْيَهُودِيِّ ‏"‏ احْلِفْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِذًا يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ بِمَالِي ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏{إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران: 77 ) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا ۔
۱۶
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۳
Abdullah Bin Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ۔
۱۷
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۴
ابوامامہ الحارثی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا قَالَ ‏"‏ وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو
۱۸
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۵
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ۱؎۔
۱۹
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۶
Muhammad Bin Yahya, Who Is Abu Yunus Al-Qawi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ، - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلاَ أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔
۲۰
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۷
Bara' Bin Azib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا رَجُلاً مِنْ عُلَمَاءِ الْيَهُودِ فَقَالَ ‏
"‏ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ‏"‏ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۱؎۔
۲۱
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۸
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِيَهُودِيَّيْنِ ‏
"‏ نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۔
۲۲
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۲۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۱؎۔
۲۳
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۰
It Was
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلاَنِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا ( جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے ) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
۲۴
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۱
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ ‏"‏ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ۱؎۔
۲۵
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۲
ابن شہاب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ كَانَتْ ضَارِيَةً دَخَلَتْ فِي حَائِطِ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ ‏.‏
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَاقَةً، لآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا ۱؎۔
۲۶
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۳
It Was
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ أَوَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ‏{وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ}‏ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَصْحَابِهِ فَصَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ حَفْصَةُ لَهُ طَعَامًا ‏.‏ قَالَتْ فَسَبَقَتْنِي حَفْصَةُ فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ انْطَلِقِي فَأَكْفِئِي قَصْعَتَهَا فَلَحِقَتْهَا وَقَدْ هَوَتْ أَنْ تَضَعَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكْفَأَتْهَا فَانْكَسَرَتِ الْقَصْعَةُ وَانْتَشَرَ الطَّعَامُ ‏.‏ قَالَتْ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ عَلَى النِّطَعِ فَأَكَلُوا ثُمَّ بَعَثَ بِقَصْعَتِي فَدَفَعَهَا إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَ ‏"‏ خُذُوا ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَمَا رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن ( کی آیت ) : «وإنك لعلى خلق عظيم» یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا، اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھا لو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔
۲۷
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۴
It Was
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ ‏
"‏ غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
۲۸
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۵
It Was
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلاَ يَمْنَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ مَالِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر ( دھرن یا کڑی ) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ۱؎۔
۲۹
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۶
عکرمہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَلْمُغِيرَةَ أَعْتَقَ أَحَدُهُمَا أَنْ لاَ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ فَأَقْبَلَ مُجَمِّعُ بْنُ يَزِيدَ وَرِجَالٌ كَثِيرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا أَخِي إِنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَىَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ حَائِطِي أَوْ جِدَارِي فَاجْعَلْ عَلَيْهِ خَشَبَكَ ‏.‏
عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ ( بنی مغیرہ ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ۱؎۔
۳۰
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ۔
۳۱
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستہ کو سات ہاتھ رکھو ۱؎۔
۳۲
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۳۹
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو ۔
۳۳
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۰
It Was
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنْ ‏
"‏ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ ‏"‏ ‏.‏
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۱؎۔
۳۴
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔
۳۵
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۲
ابو سرمہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔
۳۶
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۳
نمران بن جریہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ قَوْمًا، اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏
"‏ أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔
۳۷
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۴
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِبْطَالُ الْخَلاَصِ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا ۱؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔
۳۸
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۵
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ‏.‏
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔
۳۹
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔
۴۰
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
۴۱
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۸
It Was
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلاَثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَقَالاَ لاَ ‏.‏ ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَقَالاَ لاَ ‏.‏ فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔
۴۲
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۴۹
It Was
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَىَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۱؎۔
۴۳
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَتَوُا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ ‏.‏ قَالَ فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَتْ هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ‏.‏ ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب ( ابراہیم علیہ السلام ) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا ( تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں ) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی
۴۴
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ غُلاَمًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ ‏
"‏ يَا غُلاَمُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ۱؎۔
۴۵
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۲
عبد الحمید بن سلمہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالآخَرُ مُسْلِمٌ فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ اهْدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ ‏.‏
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔
۴۶
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۳
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ صُلْحًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
۴۷
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۴
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ ‏.‏ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ‏.‏ فَقَالَ ‏
"‏ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلاَ خِلاَبَةَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ۱؎۔
۴۸
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۵
It Was
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ، قَالَ هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلاً قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَكَانَ لاَ يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ وَكَانَ لاَ يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ ‏
"‏ إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ ‏.‏ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا ‏"‏ ‏.‏
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو ۱؎۔
۴۹
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۶
It Was
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْغُرَمَاءَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اسے صدقہ دو چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے یعنی قرض خواہوں کے لیے۔
۵۰
سنن ابن ماجہ # ۱۳/۲۳۵۷
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلَعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ مِنْ غُرَمَائِهِ ثُمَّ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ مُعَاذٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَخْلَصَنِي بِمَالِي ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا عامل بنا دیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بھی بنا دیا۔