۳۲۳ حدیث
۰۱
صحیح مسلم # ۴/۸۳۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَيَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلاَةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا ‏.‏
حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے ، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا : عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا : یہود کے قرنا جیسا قرنا ، البتہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔ ‘ ‘
۰۲
صحیح مسلم # ۴/۸۳۸
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ‏.‏ زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ إِلاَّ الإِقَامَةَ ‏.‏
خلف بن ہشام نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، ان دونوں ( حماد اور یحییٰ ) نے خالد حذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں ۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے ( بیان کردہ ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : میں ( اسماعیل ) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا : ( اذان دہرائیں ) اقامت کے سوا
۰۳
صحیح مسلم # ۴/۸۳۹
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا، وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَىْءٍ يَعْرِفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ‏.‏
عبد الوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( صحابہ ) نے ( اس پر ) بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس ( گھنٹی ) بجائیں ، پھر ( آخر کار ) بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۴/۸۴۰
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَنْ يُورُوا نَارًا ‏.‏
۔ وہیب نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں .... آگے ( عبد الوہاب ) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے ، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس ( وہیب ) نے ( ينوروا نارا ’’آگ روشن کریں ‘ ‘ کی جگہ ) يوروا نارا ’’آگ جلائیں ‘ ‘ کہا ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۴/۸۴۱
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ، الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
۔ ایوب نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری قامت کہیں ۔
۰۶
صحیح مسلم # ۴/۸۴۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ، بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاَةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ ‏.‏ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ‏.‏
۔ ابو غسان مسمعی اور اسحاق بن ابراہیم نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابو غسان نے کہا : ہمیں معاذ نے حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں دستوائی ( کپڑے ) والے ہشام کے بیٹے معاذ نے خبر دی ، انہوں ( معاذ ) نے کہا : مجھے میرے والد نے عامر احول سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے انہیں یہ اذان سکھائی : الله أكبر الله أكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، پھر دو بار کہے : أشهد أن لا إله إلا الله ، پھر دو بار ، أشهد أن محمدا رسول الله ، دو بار حی على الصلوٰة دو بار حي على الفلاح دوبار ۔ اسحاق نے یہ اضافہ کیا : الله أكبر الله أكبر ، لا إله إلا الله
۰۷
صحیح مسلم # ۴/۸۴۳
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى ‏.‏
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے دو مؤذن تھے ، بلال اور نابینا ابن ام مکتومؓ ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۴/۸۴۴
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ ‏.‏
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۴/۸۴۵
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْمَى ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۴/۸۴۶
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
۔ یحییٰ بن عبد اللہ اور سعید بن عبد الرحمن نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند حدیث بیان کی
۱۱
صحیح مسلم # ۴/۸۴۷
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلاَّ أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ‏.‏
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ( دشمن پر ) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے ، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : الله أكبر الله أكبر تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’فطرت ( اسلام ) پر ہے ۔ ‘ ‘ پھر اس نے کہا : أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تو آگ سے نکل گیا ۔ ‘ ‘ اس پر صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۴/۸۴۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو ۔ ‘ ‘
۱۳
صحیح مسلم # ۴/۸۴۹
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ ‏"‏ ‏.‏
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
۱۴
صحیح مسلم # ۴/۸۵۰
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ فَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ ‏.‏ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
۱۵
صحیح مسلم # ۴/۸۵۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا ‏.‏ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ وَأَنَا ‏.‏
۔ محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘ ‘ وأن محمدا عبده ورسوله ’’اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘ رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا ’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ۔ ‘ ‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : وأنا أشهد اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۴/۸۵۲
أخبرنا [محمد بن عبد الله بن نمير] عن [طلحة بن يحيى] عن [عمه] قال: كنتُ بجانب [معاوية بن أبي سفيان]، فجاء المؤذن يدعو للصلاة، فقال معاوية: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «المؤذنون هم أصحاب الرقاب الطويلة، (تعبير عن عظمتهم في الآخرة) يوم القيامة». وبعد أن أخبرني [إسحاق بن منصور] أخبرنا [أبو عامر] عن [سفيان] عن [طلحة بن يحيى] عن [عيسى بن طلحة] قال: سمعتُ [معاوية] يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئًا من هذا القبيل.
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ ( بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے اور انہوں نے اپنے چچا ( عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھا ، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا ۔ تو معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : قیامت کے دن مؤذن ، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔ ‘ ‘
۱۷
صحیح مسلم # ۴/۸۵۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ‏.‏ فَقَالَ هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلاَثُونَ مِيلاً ‏.‏
۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۴/۸۵۵
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
۔ ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۴/۸۵۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ ذَهَبَ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ ‏"‏ ‏.‏
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘
۲۰
صحیح مسلم # ۴/۸۵۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ ‏"‏ ‏.‏
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح السمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
۲۱
صحیح مسلم # ۴/۸۵۸
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ - قَالَ - وَمَعِي غُلاَمٌ لَنَا - أَوْ صَاحِبٌ لَنَا - فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ - قَالَ - وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي فَقَالَ لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَى هَذَا لَمْ أُرْسِلْكَ وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا فَنَادِ بِالصَّلاَةِ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ ‏"‏ ‏.‏
روح نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا ( خادم یا ہمارا ایک ساتھی بھی تھا ) اس کو کسی آواز دینے والے نے باغ سے اس کا نام لے کر آواز دی ۔ کہا : جو ( لڑکا ) میرے ساتھ تھا اس نے باغ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، چنانچہ میں نے یہ ( واقعہ ) اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعے سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن ( آئندہ ) تم اگر کوئی آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے ۔ ‘ ‘
۲۲
صحیح مسلم # ۴/۸۵۹
سہل بی رضی اللہ عنہ
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلاَ نَتَغَدَّى إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ - زَادَ ابْنُ حُجْرٍ - فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اعرج نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ بلاشبہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیچھا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے ، چنانچہ جب اذان پوری کر دی جاتی ہے تو آ جاتا ہے حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے ۔ اسے کہتا ہے : فلاں چیز کو یاد کرو ، فلاں چیز کو یاد کرو ، وہ چیزیں جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں ، یہاں تک کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ۔ ‘ ‘
۲۳
صحیح مسلم # ۴/۸۶۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے ( ما يدري كم صلى کے بجائے ) إن يدري كيف صلى ’’وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی ‘ ‘ کہا ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۴/۸۶۱
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ ‏.‏ قَالَ كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ ‏.‏
۔ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمرؓ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا : جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے اور رکوع سے پہلے اور ( اس وقت بھی ) جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ آپ دو سجدوں کے درمیان انہیں نہ اٹھاتے تھے ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۴/۸۶۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلاَ يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ‏.‏
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۴/۸۶۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ ‏.‏
عقیل اور یونس دونوں نے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن جریج نے کی کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر تکبیر کرہے ۔ ( انہوں نے بحذو منكبيه کے بجائے حذو منكبيه کہا ، دونوں کا مفہوم ایک ہے ۔)
۲۷
صحیح مسلم # ۴/۸۶۴
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا‏}‏
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا ، جب وہ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہت پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۴/۸۶۵
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي أَخَاهُ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ، أَنَّحَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ ‏
"‏ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ ‏"‏ ‏.‏
۔ ابوعوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے نصر بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور ایسا ہی کرتے ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۴/۸۶۶
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ ‏.‏
قتادہ سے ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے باقی ماندہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے اللہ کے نبیﷺ کو دیکھا اور ( سعید نے ) کہا : یہاں تک کہ دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے کناروں کے سامنے لے جاتے ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۴/۸۶۷
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور ( سر اور جسم کو اوپر ) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو کہا : اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔
۳۱
صحیح مسلم # ۴/۸۶۸
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ - حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا، قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ ‏.‏ فَقَالَ لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَىَّ - قَالَ - فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ فَهَلْ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَىَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ ‏.‏ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - قَالَ - فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلاَءِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ - قَالَ - فَقَالَ هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَبَايَعَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَى قَوْمِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَعَلَى قَوْمِي - قَالَ - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلاَءِ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً ‏.‏ فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلاَءِ قَوْمُ ضِمَادٍ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابن شہاب نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے روایت بیان کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے ، پھر قیام کی حالت میں ربنا ولك الحمد کہتے ، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے ، پھر جب ( سجدے سے ) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( اس وقت بھی ) تکبیر کہے ۔ پھر ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے : میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۴/۸۶۹
ابو وائل رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ ‏.‏ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ إِنَّ طُولَ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلاَةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ‏"‏ ‏.‏
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ...... آگے ابن جریج کی حدیث کی طرح ہے اور ( عقیل نے ) ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا یہ قول کہ میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہ ہوں ، بیان نہیں کیا ۔
۳۳
صحیح مسلم # ۴/۸۷۰
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلاً، خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ‏.‏ قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ غَوِيَ ‏.‏
۔ یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو جب مروان مدینہ میں اپنا نائب بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تکبیر کہتے ....... اس کے بعد ( یونس نے ) ابن جریج کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ ان ( یونس ) کی حدیث میں ( یہ اضافہ ) ہے کہ جب وہ نماز پوری کر لیتے اور سلام پھیرتے تو مسجد والوں کی طرف منہ کرتے ( اور ) کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسو ل اللہﷺ کے مشابہ ہوں ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۴/۸۷۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ عَطَاءً، يُخْبِرُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏{‏ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ‏}‏
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں جب بھی ( سر ) اٹھاتے اور جھکاتے ، تکبیر کہتے ، اس پر ہم نے کہا : ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ تکبیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا : یقیناً یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۴/۸۷۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ وہ جب بھی ( نماز میں سر ) جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور بتاتے کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۴/۸۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلاَةِ - قَالَ - أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَوْ قَالَ قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
۔ مطرف سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اور عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھی ۔ جب وہ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر کہا : انہوں نے ہمیں محمدﷺ کی نماز پڑھائی ہے یا کہا : انہوں نے مجھے محمدﷺ کی نماز یاد دلا دی ہے ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۴/۸۷۴
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے ، انہوں نے محمود بن ربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، وہ اس بات کی نسبت نبیﷺ کی طرف کرتے تھے ( کہ آپﷺ نے فرمایا : ) ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی ۔ ‘ ‘
۳۸
صحیح مسلم # ۴/۸۷۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القریٰ ( فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘
۳۹
صحیح مسلم # ۴/۸۷۶
ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لاَ يَدْرِي مَا دِينُهُ - قَالَ - فَأَقْبَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَىَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا - قَالَ - فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا ‏.‏
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘
۴۰
صحیح مسلم # ۴/۸۷۷
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا ‏.‏
۔ زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’ ( فاتحہ ) اور اس کے بعد ( قرآن کا کچھ حصہ ۔ ) ‘ ‘
۴۱
صحیح مسلم # ۴/۸۷۸
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهْىَ خِدَاجٌ - ثَلاَثًا - غَيْرُ تَمَامٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ‏.‏ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ ‏{‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏}‏ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ ‏{‏ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏}‏ ‏.‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي ‏.‏ وَإِذَا قَالَ ‏{‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ‏}‏ ‏.‏ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي - وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَىَّ عَبْدِي - فَإِذَا قَالَ ‏{‏ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‏}‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ‏.‏ فَإِذَا قَالَ ‏{‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ‏}‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے : ﴿الرحمن الرحيم﴾ ’’سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا ۔ ‘ ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿ مالك يوم الدين﴾ ’’جزا کے دن کا مالک ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے ( اپنے معاملات ) میرے سپرد کر دیے ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ ’’ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ ( حصہ ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے : ﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ ’’ہمیں راہ راست دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا ۔ سفیان نے کہا : مجھے یہ روایت علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے سنائی ، میں ان کے پاس گیا ، وہ گھر میں بیمار تھے ۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ( تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔)
۴۲
صحیح مسلم # ۴/۸۷۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا ‏"‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ‏"‏ ‏.‏
مالک بن انس نے علاء بن عبد الرحمان سے روایت کی ، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جس طرح پچھلی روایت ہے ۔)
۴۳
صحیح مسلم # ۴/۸۸۰
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ، وَكَانَا، جَلِيسَىْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهْىَ خِدَاجٌ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُهَا ثَلاَثًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبد الرحمان نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد اللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ‘ ‘ ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور ( مالک بن انس اور ابن جریج ) دونوں کی روایت میں ہے : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے ، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے ۔ ‘ ‘
۴۴
صحیح مسلم # ۴/۸۸۱
وقال أويس: أخبرني علاء، قال: سمعت من أبي وأبي صائب، وكلاهما من أصحاب أبي هريرة رضي الله عنه، قالا: قال أبو هريرة رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى ولم يقرأ سورة الفاتحة فقد نقصت». قال هذه الجملة ثلاث مرات... وهذا مثل حديث الشيوخ المذكورين (مالك، وسفيان، وابن جريج).
و اویس نے کہا : مجھے علاء نے خبر دی ، کہا : میں نے اپنے والد سے اور ابو سائب سے سنا ، وہ دونوں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہم نشیں تھے ، ان دونوں نے کہا کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی نماز ادا کی اور اس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی تو وہ ( نماز ) ادھوری ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہ جملہ فرمایا .... آگے مذکورہ بالا اساتذہ ( مالک ، سفیان ، ابن جریج ) کی حدیث کی طرح ہے
۴۵
صحیح مسلم # ۴/۸۸۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ ‏.‏
حبیب بن شہید سے روایت ہے ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جو ( نماز ) رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس ( نماز ) میں آپ نے ( قراءت کو ) مخفی رکھا ، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۴/۸۸۳
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي كُلِّ الصَّلاَةِ يَقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَالَ إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ ‏.‏
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔
۴۷
صحیح مسلم # ۴/۸۸۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ ‏.‏
۔ حبیب معلم سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہر نماز میں قراءت ہے ۔ تو جو ( قراءت ) نبی ﷺ نے ہمیں سنائی ہم نے تمہیں سنائی اور جو انہوں نے ہم سے پوشیدہ رکھی ، ہم نے وہ تم سے پوشیدہ رکھی اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی تو اس کے لیے وہ کافی ہے اور جس نے ( اس سے ) زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۴/۸۸۵
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمَ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا ‏"‏ ‏.‏
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا : ’’ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پرھی ۔ “ تو اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ “ چنانچہ اسی طرح وہ نماز پڑھتا اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کرتا ۔ اور آپ ﷺ یہی فرماتے : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے ادا نہیں کی ۔ “ آخر اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق بنایا ہے ، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناوقف ہوں ۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بتا دیجئے ؟ تو ارشاد ہوا : ” تم جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن کریم تم باآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو اس کے بعد رکوع کرو اور پھر بہ آرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اس کے بعد بہ اطمینان سجدہ کرو اور پھر بہ اطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو ۔ “
۴۹
صحیح مسلم # ۴/۸۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةٍ وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ ‏ "‏ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ‏"‏ ‏.‏
ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی ، رسول اللہﷺ ایک جانب ( تشریف فرما ) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور ( حدیث کے حصے ) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا : ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف رخ کرو ، پھر تکبیر کہو ۔ ‘ ‘
۵۰
صحیح مسلم # ۴/۸۸۷
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘