ایمان
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۱/۱
اعلموا! وفقكم الله. من استطاع التمييز بين الأحاديث الصحيحة والضعيفة، وعرف الرواة الموثوقين والمتهمين (أي الذين اتُهموا بالكذب وغيره)، وجب عليه ألا يروي إلا الحديث الصحيح الأصل، الذي لم يُفصح عن خطئه، وأن يتجنب روايات المتهمين أو المتشددين من أهل البدع. ودليل ذلك قول الله تعالى: "يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بالخبر فتحققوا منه أن تضلوا قوماً بجهالة فتندموا غداً على ما كنتم تعملون". وقال الله تعالى: "واستشهدوا على رجلين أو رجل وامرأتين من اختياركم" (أي الذين عُرفوا بالصدق والخير)، وقال: "دعا الله تعالى إلى شهداء صالحين". يتضح من هذه الآيات أن قول المعتدي غير موثوق، وكذلك يتضح من الحديث الشريف أنه لا يجوز رواية حديث باطل (يحتمل أن يكون باطلاً)، كما هو واضح من القرآن، وهذا الحديث هو نفسه الحديث المشهور المروي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من روى عني حديثًا وظن أنه باطل فهو كاذب». روى الإمام مسلم رحمه الله بسنده عن سيدنا سمرة بن جندب رضي الله عنه وسيدنا مغيرة بن شعبة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (أي نفس الحديث المذكور أعلاه: من روى عني حديثًا وظن أنه باطل فهو كاذب).
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (معتبر) اور متہم (جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
۰۲
صحیح مسلم # ۱/۲
وأخبرنا أبو بكر بن أبي شيبة، وأخبرنا غندور عن شيبة (وقد ذُكر ذلك في رواية أخرى)، وأخبرنا محمد بن المسنان وابن بسيشار، وأخبرنا محمد بن جعفر عن شيبة عن منصور عن ربيع بن حراسي أنه سمع عليًا يخطب، فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تكذبوا باسمي، فإن من كذب باسمي دخل النار».
ابو بکر بن ابی شیبہ ، نیز محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے محمد بن جعفر ( غندر ) نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ربعی بن حراش سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، جب وہ خطبہ دے رہے تھے : کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو ، بلاشبہ جس نے مجھ پر جھوٹ بولا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
۰۳
صحیح مسلم # ۱/۳
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : مجھے تمہارے سامنے زیادہ احادیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے
۰۴
صحیح مسلم # ۱/۴
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۱/۵
أخبرنا [محمد بن عبد الله بن نمير] أخبرنا [أبي] أخبرنا [سعيد بن عبيد] أخبرنا [علي بن ربيعة] أنه قال: "ذهبت إلى المسجد وكان المغيرة والي الكوفة. فقال: "ثم قال [المغيرة]: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الكذب باسمي ليس كالكذب باسم أحد، فمن كذب باسمي عن عمد فليأخذ مقعده من جهنم". وأخبرني [علي بن حجر السعدي] أخبرنا [علي بن مشير] أخبرنا [محمد بن قيس الأسدي] عن [علي بن ربيعة الأسدي] عن [المغيرة بن شعيبة] عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث، إلا أنه لم يذكر: "إن الكذب باسمي ليس كالكذب باسم غيري".
۔ سعید بن عبید نے کہا : ہمیں علی بن ربیعہ والبی نے حدیث بیان ، کہا : میں مسجد میں آیا اور ( اس وقت ) حضرت مغیرہ ( بن شعبہ رضی اللہ عنہ ) کوفہ کے امیر ( گورنر ) تھے : مغیرہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے ( میرے علاوہ ) کسی ایک ( عام آدمی ) پر جھوٹ بولنا ہے ، جس نے جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ بولا وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔ ‘ ‘
۰۶
صحیح مسلم # ۱/۶
روى لي علي بن حجر السعدي أيضًا: روى لنا علي بن مشير. (قلنا: روى لنا محمد بن قيس الأسدي حديثًا مشابهًا عن علي بن ربيعة الأسدي (63) عن مغيرة بن شعبة عن النبي (صلى الله عليه وسلم)، لكنه لم يذكر الجملة: "إن الكذب فيّ ليس كالكذب في غيري").
۔ محمد بن قیس اسدی نے علی بن ربیعہ اسدی سے ، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اسی طرح روایت کی لیکن ’’بلاشبہ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں جیسے کسی ایک ( عام ) آدمی پر جھوٹ بولنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس جملہ ) بیان نہیں کیا ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۱/۷
وقد أخبرنا [عبيد الله بن معاذ الأنباري]، وأخبرنا [أبي] (ورد ذلك في رواية أخرى)، وأخبرنا [محمد بن المسنان]، وأخبرنا [عبد الرحمن بن المهدي]، قال كلاهما، وأخبرنا [شعيبة] عن [خبيب بن عبد الرحمن]، عن [حفش بن أشيم]، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يكفي العبد كاذباً أن يروي كل ما يسمع". وأخبرنا [أبو بكر بن أبي شعيبة]، وأخبرنا [علي بن حفش]، وأخبرنا [شعيبة] عن [خبيب بن عبد الرحمن]، عن [حفش بن أشيم]، عن [أبو هريرة]، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنفس الحديث.
عبیداللہ بن معاذ بن عنبری اور عبد الرحمن بن مہدی دونوں نے کہا : ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔ ‘ ‘
۰۸
صحیح مسلم # ۱/۸
روى أبو بكر بن أبي شيبة، وعلي بن حفص عن شعبة، وعن خبيب بن عبد الرحمن، وعن حفص بن عاصم، وعن أبي هريرة رضي الله عنه، وعن النبي صلى الله عليه وسلم روى شيئاً مشابهاً.
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ‘ علی بن حفص نے شعبہ سے ، انہوں نے خبیب بن عبد الرحمٰن سے ، انہوں نے حفص بن عاصم سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے اس کے مانند روایت کی ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۱/۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ
" إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ بَعْلَهَا " يَعْنِي السَّرَارِيَّ .
" إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ بَعْلَهَا " يَعْنِي السَّرَارِيَّ .
یحییٰ بن یحییٰ ‘ ہشیم ‘ سلیمان تیمی ‘ ابو عثمان نہدی سے روایت ہے ، کہا : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کے لیے جھوٹ سے اتنا کافی ہے ( جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیا جا سکتا ہے ) کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے
۱۰
صحیح مسلم # ۱/۱۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ - عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَلُونِي " فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ . فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ " لاَ تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ قَالَ " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِحْسَانُ قَالَ " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لاَ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الأَرْضِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ " . ثُمَّ قَرَأَ { إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} قَالَ ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُدُّوهُ عَلَىَّ " فَالْتُمِسَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا جِبْرِيلُ أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا " .
ابن وہب نے خبر دی کہا : مالک ( بن انس ، نے مجھ سے کہا : مجھے معلوم ہے کہ ایسا آدمی ( صحیح ) سالم نہیں ہوتا جو ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دے ، وہ کبھی امام نہیں بن سکتا ( جبکہ ) وہ ہر سنی ہوئی بات ( آگے ) بیان کر دیتا ہے ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۱/۱۱
روى محمد بن مثاني، وعبد الرحمن، وسفيان، وأبو إسحاق، وأبو الأحواس عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، قال: يكفي المرء أن يكذب حتى يروي كل ما يسمع.
محمد بن مثٰنی ‘ عبد الرحمٰن ‘ سفیان ‘ ابو اسحاق ‘ ابو الاحوص نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : آدمی کے جھوٹ میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۱/۱۲
روى سفيان بن الحسين: سألني إياس بن معاوية: «أرى أنك تحب علم القرآن، فاقرأ لي سورةً واشرحها لأتدبر ما تعلم». ففعلت كما طلب، ثم قال لي: «تذكر جيدًا ما سأخبرك به: إياك والمنكر في الأحاديث، فقليلٌ من يرويها دون أن يهين نفسه، ثم تُرد أحاديثهم».
۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن مہدی سے سنا ، کہہ رہے تھے : آدمی اس وقت تک امام نہیں بن سکتا کہ لوگ اس کی اقتداء کریں یہاں تک کہ وہ سنی سنائی بعض باتوں ( کو بیان کرنے ) سے باز آ جائے ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۱/۱۳
روى سفيان بن الحسين أن إياس بن معاوية دعاه وقال: "أرى أنك شغوف بعلم القرآن، فاقرأ عليّ سورةً وشرح لي معناها لأرى ما تعلم". فقال: "فعلت، فقال لي: "تذكر دائماً ما أخبرتك به عني".
سفیان بن حسین سے روایت ہے کہ ایاس بن معاویہ مجھ سے مطالبہ کیا اور کہا میں تمہیں دیکھتا ہوں تم قرآن کےعلم سے شدید رغبت رکھتے ہوں تم میرے سامنے ایک سورۃ پڑھو اور اس کی تفسیر کرو تاکہ جو تمہیں علم ہے میں بھی اسے دیکھوں ۔ کہا .میں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا جوبات میں تم سے کہنے لگا ہوں اسے میری طرف سے ہمیشہ یاد رکھنا ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۱/۱۴
قال أبو طاهر، وحرملة بن يحيى، وابن وهب، ويونس، وابن شهاب، وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة، وحضرة عبد الله بن مسعود (رضي الله عنه): إنك لا تروي على قوم حديثًا لا تستطيع عقولهم استيعابه، إلا صار سببًا للفتن لبعضهم.
ابو طاہر ‘ حرملہ بن یحییٰ ‘ ابن وہب ‘ یونس ‘ ابن شہاب ‘ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی قوم کے سامنے ایسی حدیث بیان نہیں کرتے جس ( کے صحیح مفہوم ) تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں مگر وہ ان میں سے بعض کے لیے فتنے ( کا موجب ) بن جاتی ہیں ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۱/۱۵
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .,وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لاَ يُضِلُّونَكُمْ وَلاَ يَفْتِنُونَكُمْ " .
محمد بن عبد اللہ بن نمیر ‘ زہیر بن حرب ‘ عبداللہ بن یزید ‘ سعد بن ابی ایوب ‘ ابوہانی نے ابو عثمان مسلم بن یسار سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ، تم اس قماش کے لوگوں سے دور رہنا ۔ ‘ ‘
۱۶
صحیح مسلم # ۱/۱۶
أخبرني [حرملة بن يحيى بن عبد الله بن حرملة بن عمران التجيبي] أنه قال، وأخبرنا [ابن وهب] أنه قال، وأخبرنا [أبو شوريه] أنه سمع [شرحهيل بن يزيد] يقول، وأخبرني [مسلم بن يسار] أنه سمع [أبو هريرة] يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سيأتيكم الدجالون الكذابون في آخر الزمان بأحاديث لم تسمعوا بها ولم يسمع بها آباؤكم، فابتعدوا عنهم وابتعدوا عنهم، فلن يضلوكم ولن يطعنوكم».
۔ حرملہ بن یحییٰ ‘ عبد اللہ بن حرملہ بن عمران تجیبی ‘ ابن وہب ‘ شراحیل بن یزید کہتے ہیں : مجھے مسلم بن یسار نے بتایا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ‘ ‘
۱۷
صحیح مسلم # ۱/۱۷
روى أبو سعيد الأشج، والواقع، والأمش، والمسيب بن رافع، وأمير بن عبده أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: إن الشيطان يتخذ صورة رجل، ثم يأتي الناس فيحدثهم بحديث كاذب، فيتفرقون. فيقول رجل منهم: سمعت حديثاً من رجل، أعرف وجهه ولكني لا أعرف اسمه، كان يروي حديثاً.
ابو سعید اشج ‘ وکیع ‘ اعمش ‘ مسیب بن رافع ‘ عامر بن عبدہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلاشبہ شیطان کسی آدمی کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹ ( پر مبنی ) کوئی حدیث سناتا ہے ، پھر وہ بکھر جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی آدمی کہتا ہے : میں نے ایک آدمی سے ( حدیث ) سنی ہے ، میں اس کا چہرہ تو پہنچانتا ہوں پر اس کا نام نہیں جانتا ، وہ حدیث سنا رہا تھا ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۱/۱۸
روى ابن عباس رضي الله عنه: «جاء بصير بن كعب إلى ابن عباس، فصار يروي له أحاديث. فقال له ابن عباس: ارجع إلى حديث كذا وكذا. فرجع بصير فرواه. ثم قال له ابن عباس: ارجع إلى حديث كذا وكذا. فرجع بصير فرواه. فقال له بصير: لا أدري أتعلم أحاديثي كلها وتكذب هذا وذاك، أم تكذب أحاديثي كلها وتعرف هذا وذاك فقط؟» فقال ابن عباس: «كنا نتلقى الأحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في زمن لم يكن فيه أحد يكذب عليه، فلما خلط الناس بين الأحاديث المشكوك فيها والصحيحة، تركنا أحاديثهم».
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ معمر ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سمندر ( کی تہ ) میں بہت سے شیطان قید ہیں جنہیں حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ نے باندھا تھا ، وقت آ رہا ہے کہ وہ نکلیں گے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھیں گے ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۱/۱۹
روى لي محمد بن عباد وسعيد بن عمرو الأشعثي معًا عن ابن عيينة. قال سعيد: حدثنا سفيان عن هشام بن حجير، عن طاووس. قال طاووس، مشيرًا إلى بشير بن كعب: "جاء هذا الرجل إلى ابن عباس، فشرع يروي له الحديث. فقال له ابن عباس: قل كذا وكذا من الحديث! فقله. ثم روى له الحديث مرة أخرى. فقال له ابن عباس ثانية: قل كذا وكذا من الحديث! فقله. ثم قال لابن عباس: لا أدري، هل كنت تعرف أحاديثي كلها إلا هذا؟ أم أنك لم تكن تعرف أحاديثي كلها، ولم تعرف إلا هذا؟" أجاب عباس: "كنا نروي الأحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عندما لم تكن تُفترى عليه الأكاذيب. ولكن عندما بدأ الناس يركبون الإبل الجامحة والوديعة (أي عندما بدأ الناس يمارسون أي مهنة، حسنة كانت أم سيئة)، توقفنا عن رواية الأحاديث عنه".
محمد بن عباد ‘ سعید بن عمر ‘ اشعثیٰ ‘ ابن عیینہ ‘ سعید ‘ سفیان ‘ ہشام بن جحیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : یہ ( ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا ، ابن عباس رضی اللہ عنہ اس سے کہا : فلاں فلاں حدیث دہراؤ ۔ اس نے دہرا دیں ، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں ۔ انہوں نے اس سے کہا : فلاں حدیث دوبارہ سناؤ ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں ، پھر آپ سے عرض کی : میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری ( بیان کی ہوئی ) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : جب آپﷺ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کرتے تھے ، پھر جب لوگ ( ہر ) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے ( بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے ) تو ہم نے ( براہ راست ) آپﷺ سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۱/۲۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ ابن طاؤس ‘ طاؤس کے بیٹے نے اپنےوالد ( طاوس ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہﷺ کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہﷺ سے ( مروی ) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے ( بغیر تمیز کے ) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ ( معاملہ ) دو رہو گیا ( یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں ، پھر یاد رکھیں ۔)
۲۱
صحیح مسلم # ۱/۲۱
(حدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني:) حدثنا أبو عامر، أي العقادي:) حدثنا رباح عن قيس بن سعد، الذي حدث عن مجاهد. قال مجاهد: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس وبدأ يروي الحديث قائلاً: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم... فلم يستمع ابن عباس لروايته، ولم ينظر إليه. فقال بشير: يا ابن عباس! لماذا لا أراك تستمع إلى حديثي؟ قال: إني أقرأ عليك حديثًا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأنت لا تستمع؟ أجاب ابن عباس رضي الله عنه: "كان هناك زمنٌ إذا سمعنا فيه أحداً يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم...، كانت أعيننا تتجه إليه فوراً، وآذاننا تصغي إليه. أما إذا بدأ الناس يتلونون بألوان شتى، فلم نعد نقبل منهم شيئاً إلا ما نعرفه".
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۱/۲۲
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور ( جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ ) باتیں مجھ سے چھپا لیں ۔ انہوں نے فرمایا : لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے ، میں اس کے لیے ( حدیث سے متعلق ) تمام معاملات میں ( صحیح کا ) انتخاب کروں گا اور ( موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو ) ہٹا دوں گا ( کہا : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے منگوائے ) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور ( یہ ہوا کہ ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے : بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا ، سوائے اس کے کہ ( خدانخواستہ ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں ( جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔)
۲۳
صحیح مسلم # ۱/۲۳
روي عن عمر ونقيد وسفيان بن عيينة وهشام بن حجير وطاووس أنه قال: أُتي بكتاب إلى ابن عباس (رضي الله عنه) فيه أحكام علي (رضي الله عنه)، فترك هذا القدر ومحا الباقي، وأشار سفيان بن عيينة إلى طول كف اليد.
عمر وناقد ‘ سفیان بن عیینہ ‘ ہشام ‘ بن حجیر ‘ طاوس سے روایت ہے ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے ( لکھے ہوئے ) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی ( سب کچھ ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ ( جتنی لمبائی ) کا اشارہ کیا ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۱/۲۴
(روى لنا الحسن بن علي الحلواني:) روى لنا يحيى بن آدم:) روى لنا ابن إدريس عن أعمش عن أبي إسحاق. قال أبو إسحاق: لما ابتدعوا هذه الأشياء بعد علي (رضي الله عنه)، قال أحد أصحاب علي: «يعاقبهم الله! ما أعظم العلم الذي أفسدوه!»
حسن بن علی حلوانی ‘ یحییٰ بن آدم ‘ ابن ادریس ‘ اعمش ‘ ابو اسحاق سے روایت ہے ، کہا : جب ( بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے ) لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ( ان کے نام پر ) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ ان ( لوگوں ) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا ( عظیم الشان ) علم بگاڑ دیا ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۱/۲۵
أخبرنا أبو بكر بن عياش عن علي بن خشرم أنه قال: سمعت من المغيرة أنه كان يقول: لم يثبت شيء في الأحاديث المروية عن علي (رضي الله عنه) إلا ما رواه تلاميذ عبد الله بن مسعود (رضي الله عنه).
علی بن خشرم ‘ ابو بکر بن عیاش نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے مغیرہ سے سنا ، فرماتے تھے : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی ، سوائے اس کے جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۱/۲۶
(حدثنا الحسن بن ربيع:) حدثنا حماد بن زيد عن أيوب وهشام، اللذين حدثا عن محمد؛ وحدثنا الفضيل عن هشام، الذي حدث عن مهد بن حسين عن هشام، الذي حدث عن محمد بن سيرين، قال: "هذا العلم دين، فاحذروا ممن تأخذون دينكم!"
حسن بن ربیع ‘ حماد بن زید ‘ ایوب ‘ ہشام ‘ محمد ‘ ح ‘ فضیل ‘ ہشام ‘ مخلد بن حسین ‘ ہشام ، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، یہ علم ، دین ہے ، اس لیے ( اچھی طرح ) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو ۔
۲۷
صحیح مسلم # ۱/۲۷
روى لنا أبو جعفر محمد بن الصباح أن إسماعيل بن زكريا حدثنا عن عاصم الأهوال، الذي حدث عن ابن سيرين. قال ابن سيرين: كانوا لا يسألون عن سند الرواة. فإذا نشبت الفتنة قالوا: أخبرنا بأسماء رواتك. أما الآن، فيُعتنى بأهل السنة وتُقبل أحاديثهم، ويُعتنى بأهل البدع ولا تُقبل أحاديثهم.
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : ( ابتدائی دور میں عالمان حدیث ) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے ، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا : ہمارے سامنے اپنے رجال ( حدیث ) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے
۲۸
صحیح مسلم # ۱/۲۸
روى الأوزاعي عن سليمان بن موسى قال: "لقيت زوس (رضي الله عنه) فقلت له: حدثني رجل بهذا الحديث وذاك. فقال: إذا كان سيدك أميناً فخذه منه".
۔ اوزاعی نے سلیمان بن موسٰی سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا .میں ظاوس رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا .مجھےشخص نے اس اس کرح حدیث سنائی ۔ انھوں کہا ’اگر تمہارے صاحب ( استاد ) پوری طرح قابل اعتماد ہیں توان سے اخذ کر لو ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۱/۲۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلاً لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلاَّ حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .
" مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .
سعید بن عبد العزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے طاوس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی ۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھر پو ہیں تو ان سے اخذ کر لو ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۱/۳۰
روى عبد الرحمن بن أبي زناد عن أبيه أنه قال: لقد قابلت في المدينة مئة رجل آمنين موثوق بهم، ولكن لم تُؤخذ عنهم أحاديث، وقيل إنهم غير قادرين على ذلك (العلم).
(عبد الرحمن ) بن ابی زناد نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں مدینہ میں سو ( اہل علم ) سے ملا جو ( دین میں تو ) محفوظ ومامون تھے ( لیکن ) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں ، کہا جاتا تھا یہ اس ( علم ) کے اہل نہیں
۳۱
صحیح مسلم # ۱/۳۱
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَبُو هُرَيْرَةَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " مَا شَأْنُكَ " . قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلاَءِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ " اذْهَبْ بِنَعْلَىَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلاَنِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ . فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلاَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ . فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَىَّ فَخَرَرْتُ لاِسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَىَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاِسْتِي قَالَ ارْجِعْ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ . قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَخَلِّهِمْ " .
۔ مسعر سے روایت ہے ، کہا : میں نے سعد بن ابراہیم ( بن عبد الرحمن بن عوف ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہﷺ سے حدیث بیان نہ کرے ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۱/۳۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ " يَا مُعَاذُ " . قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " يَا مُعَاذُ " . قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " يَا مُعَاذُ " . قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ " إِذًا يَتَّكِلُوا " فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا .
محمد بن عبد اللہ بن قہزاد نے ( جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں ) کہا : میں نے عبدان بن عثمان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ ( امام مسلم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور محمد بن عبد اللہ نے کہا : مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ ( بن مبارک ) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کن چیز ، بیان کی جانے والی خبروں کے ) پاؤں ، یعنی سندیں ہیں ( جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔)
۳۳
صحیح مسلم # ۱/۳۳
روى أبو نضر هاشم بن قاسم حديثًا قال: سمعنا أبا عقيل (يحيى بن متوكل)، سيد بهية، يروي حديثًا قال: كنتُ جالسًا مع قاسم بن عبيد الله (بن عبد الله بن عمر، أمه أم عبد الله بنت قاسم بن محمد بن أبي بكر) ويحيى بن سعيد، فقال يحيى لقاسم بن عبيد الله: يا أبا محمد! إن هذا ذنب عظيم على رجل مثلك، إنه لأمر عظيم أن تُسأل عن أمر من هذا الدين ولا تعلم فيه ولا تجد له حلًا، أو (قل هذه الكلمات) لا تعلم فيه ولا مخرجًا. فقال له قاسم: ما السبب؟ قال (يحيى): لأنك ابن إمامي الهدى، أبو بكر وعمر. قال: قال له قاسم: "إن رجلًا أُعطيَ ذكاءً من الله، لشرٌ عليّ أن أقول شيئًا بغير علم، أو أن أروي عن غير أمين". (عند سماع هذا، التزم يحيى الصمت ولم يجبه).
۔ ابو نضر ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل ( یحییٰ بن متوکل ) نے حدیث بیان کی ، کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۱/۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً "
" ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً "
بشر بن حکم عبدی نے مجھ سے بیان کیا ، کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے سے بہت سے لوگوں نے بہیہ کے مولیٰ ابو عقیل سے ( سن کر ) روایت کی کہ ( کچھ ) لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے کوئی بات پوچھی جس کے بارے میں ان کے علم میں کچھ نہ تھا تو یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا : میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے ( جبکہ آپ ہدایت کے وو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ، کوئی بات پوچھی جائے ( اور ) اس کےب ارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں ۔ ( سفیان نے ) کہا : ابو عقیل یحییٰ بن متوکل ( بھی ) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۱/۳۵
روى لنا عمرو بن علي وأبو حفص أيضًا: "سمعت يحيى بن سعيد يقول: سألت سفيان الثوري، وشعبة، ومالك، وابن عيينة: ماذا أفعل إذا كان أحد غير موثوق به في الحديث وسألني عنه أحد؟ قالوا: أخبره أنه غير موثوق به!"
یحییٰ بن سعید نے کہا : میں نے سفیان ثوری ، شعبہ ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پور ی طرح قابل اعتماد ( ثقہ ) نہ ہو ، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا : اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے
۳۶
صحیح مسلم # ۱/۳۶
قال النضر: سُئل ابن عون عن حديث شهر بن حوشاب، وكان واقفًا على عتبة بابه، فقال: لقد لعنوا المدينة، لقد لعنوا المدينة. قال الإمام مسلم رضي الله عنه: استهدفتهم ألسنة الناس، وتحدثوا عنهم.
۔ نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر ( بن حوشب ) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا ، ( اس وقت ) وہ ( اپنی ) دہلیز پر کھڑے تھے ، وہ کہنے لگے : انہوں ( محدثین ) نے یقینا شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا ، ان کے بارے میں باتیں کیں ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۱/۳۷
روى محمد بن عبد الله بن قهزاد: أخبرني علي بن حسين بن واجد أن عبد الله بن المبارك قال: قلت لسفيان الثوري: إن عباد بن كثير، الذي تعلم حاله، إذا روى... قال: كنت إذا كنت في مجلس، فذُكر عباد، أثنيت عليه لدينه، ولكني كنت أقول: لا تأخذوا منه حديثًا. قال محمد: حدثنا عبد الله بن عثمان، قال، قال أبي، قال عبد الله بن المبارك: وجدت نفسي في مجلس شعبة، فقال: هذا عباد بن كثير، فاحذروه.
ہمیں شبابہ نے بتایا ، کہا : شعبہ نے کہا : میں شہر سے ملا لیکن ( روایت حدیث کے حوالے سے ) میں نے انہیں اہمیت نہ دی ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۱/۳۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الإِسْلاَمِ قَوْلاً لاَ أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ
" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ " .
" قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ " .
عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں نے سفیان ثوری سے عرض کی : بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں : اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں! عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔ ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو
۳۹
صحیح مسلم # ۱/۳۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
" تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
فضل بن سہل نے بتایا ، کہا : میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں ، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی ، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا ، کہا : میں اس کے دروزاے پر تھا ، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان ( سفیان ) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذاب ہے ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۱/۴۰
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ
" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
محمد بن ابی عتاب نے کہا : مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ہم نے نیک لوگوں ( صوفیا ) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا ۔ ابن ابی عتاب نے کہا : میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس ( بات کے ) بارے میں پوچھا ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا : تم اہل خیر ( زہد و ورع والوں ) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے ۔ امام مسلم نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا : ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے ، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۱/۴۱
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا : میں غالب بن عبید اللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا : مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی ۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا ، میں نے ( جو ) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا : مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی ، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی ۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ ( امام مسلم نے کہا : ) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عفان کی کتاب میں ابو مقدام ہشام کی ( وہ ) روایت دیکھی ( جو عمر بن عبد العزیز کی حدیث ہے ) ( اس میں تھا : ) ہشام نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا ، محمد بن کعب سے حدیث بیان بیان کی ، کہا : میں نے عفان سے کہا : ( اہل علم ) کہتے ہیں : ہشام نے یہ ( حدیث ) محمد بن کعب سے سنی تھی ۔ تو وہ کہنے لگے : وہ ( ہشام ) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے ۔ ( پہلے ) وہ کہا کرتے تھے : مجھے یحییٰ نے محمد ( بن کعب ) سے روایت کی ، بعد ازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ ( حدیث براہ راست ) محمد سے سنی ہے ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۱/۴۲
روى لي محمد بن عبد الله قهزاد حديثًا قال فيه: سمعت عبد الله بن عثمان بن جبلة يقول: فقلت لعبد الله بن مبارك: من هذا الذي رويت عنه حديث عبد الله بن عمرو: «يوم عيد الفطر يوم هدايا»؟ فقال: يا سليمان بن حجاج، انظر جيدًا إلى الأحاديث التي معك (أو الأحاديث التي أخبرتك بها). قال ابن قهزاد: سمعت وهب بن زمعة يروي عن سفيان بن عبد الملك، فقال: قال عبد الله، أي ابن مبارك: رأيت روح بن غطيف، راوي الحديث، ودمه يعادل درهمًا واحدًا. جلست معه في مجلس، فاستحييت من أصحابي لرؤيتي أجلس معه مع كرهي لرواية الحديث له، لكرهه للحديث وعدم قبول روايته.
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔ ‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے
۴۳
صحیح مسلم # ۱/۴۳
قال ابن قهزاد: سمعت وهب يروي عن سفيان، وروى عن عبد الله بن مبارك، قال: أما الباقون فصادقون في القول، لكنهم يأخذون الحديث من كل من يأتي (كل من هو ماهر في الحديث ومن ليس كذلك).
ابن قہزاذ نے کہا ، میں نے وہب سے سنا ، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے روایت کی ، کہا : بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے ( علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص ) سے حدیث لے لیتے ہیں ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۱/۴۴
روى أبو عامر عبد الله بن براد الأشعري: حدثنا أبو أسامة عن مفضل عن مغيرة أنه قال: سمعت الشعبي يقول: "حدثني الحارث الأعور"، وشهد بأنه كان من الكاذبين.
قتیبہ بن سعید ‘ جریر نے مغیرہ سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذاب تھا ۔
۴۵
صحیح مسلم # ۱/۴۵
(أبو عامر عبد الله بن براد الأشعري حدثنا:) حدثنا أبو أسامة عن مفضل، الذي حدث عن المغيرة، أنني سمعت الشعبي يقول: "حدثني الحارث الأعور"، مع أنه شهد بأنه كان من الكاذبين.
ابو عامر عبداللہ بن براداشعری ‘ ابو اسامہ ‘ مفضل بن مغیرہ سے روایت کی ، کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا : مجھ سے حارث اعور نے روایت کی بیان کی اور ( یہ کہ ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ ( حارث ) جھوٹوں میں سے ایک تھا ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۱/۴۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
" لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
قتیبہ بن سعید ‘ جریر ‘ مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : علقمہ نے کہا : میں نے دو سال میں قرآن پڑھا ( تدبر کرتے ہوئے ختم کیا ۔ ) تو حارث نے کہا : قرآن آسان ہے ، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے ۔
۴۷
صحیح مسلم # ۱/۴۷
روى الحجاج بن شعار، أحمد بن يونس، عن إبراهيم النخعي أن الحارث (الأعمى) قال: تعلمت القرآن في ثلاث سنين والوحي في سنتين (أو قال: الوحي في ثلاث سنين والقرآن في سنتين). وللوحي في المعاجم معانٍ كثيرة، منها: الإشارة، والكتابة، والإلهام، والكلام السري، وغير ذلك، أما في الاصطلاح الإسلامي، فالوحي هو إرسال كلمة أو رسالة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بإحدى الطرق التي شرعها الله. وهذا القول المنسوب إلى الحارث يدل على جهله بمصطلحات الاصطلاح الإسلامي.
حجاج بن شاعر ‘ احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث ( اعور ) نے کہا : میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں ( یا کہا ) : وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں ۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں ، مثلاً : اشارہ کرنا ، کتابت ، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے ، اپنے رسول کی طرف کلام ، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے ۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۱/۴۸
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
۔ منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے
۴۹
صحیح مسلم # ۱/۴۹
روى لنا قتيبة بن سعيد: روى لنا جرير عن حمزة الزيات، قال: سمع شيئًا من الحارث، فقال له: اجلس عند ذلك الباب (وانتظرني). فدخل مرة مسرعًا وأخذ سيفه. لكن الحارث، إذ شعر أن الأمور تسير على نحو سيئ، خرج على الفور.
۔ حمزہ زیات سے روایت ہے ، کہا : مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا : تم دروازے ہی پر بیٹھو ( اندر نہ آؤ ) ۔ پھر وہ ( گھر میں ) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۱/۵۰
روى أبو كامل الجهدري: حدثنا حماد - أي ابن زيد - وحدثنا عاصم، قال: "كنا نجلس مع أبي عبد الرحمن السلمي ونحن صغار، وكان يقول لنا: لا تجلسوا مع الرواة إلا أبو الأحواس، واحذروا الشقيق".
۔ ( عبد اللہ ) بن عون سے روایت ہے ، کہا : ابراہیم ( نخعی ) نے ہم سے کہا : تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے بچ کر رہو ، وہ کذاب ہیں