مساجد اور نماز کی جگہیں
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۱
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " الْمَسْجِدُ الأَقْصَى " . قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ " أَرْبَعُونَ سَنَةً وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ " . وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ " ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّهْ فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ " .
ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں عبد الواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد جو زمین میں بنائی گئی پہلی ہے؟ آپ نے فرمایا : ’’ مسجد حرام ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سی؟ فرمایا : ’’مسجد اقصیٰ ۔ ‘ ‘ میں نے ( پھر ) پوچھا : دونوں ( کی تعمیر ) کے مابین کتنا زمانہ تھا؟ آپ نے فرمایا : ’’چالیس برس ۔ اور جہاں بھی تمہارے لیے نماز کا وقت ہو جائے ، نماز پڑھ لو ، وہی ( جگہ ) مسجد ہے ۔ ‘ ‘ ابو کامل کی حدیث میں ہے : ’’ پھر جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت ہو جائے ، اسے پڑھ لو ، بلاشبہ وہی جگہ مسجد ہے
۰۲
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۲
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ قَالَ " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " الْمَسْجِدُ الأَقْصَى " . قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ " أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ " .
علی بن مسہر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم بن یزید تیمی سے حدیث سنائی ، کہا : میں مسجد کے باہر کھلی جگہ ( صحن ) میں اپنے والد کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا ، جب میں ( آیت ) سجدہ کی تلاوت کرتا تو وہ سجدہ کر لیتے ۔ میں نے ان سے پوچھا : ابا جان! کیا آپ راستے ہی میں سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے روئے زمین پر سب سے پہلی بنائی جانے والی مسجد کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ مسجد حرام ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا ، ’’ مسجد اقصیٰ ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : دونوں ( کی تعمیر ) کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ نے فرمایا : ’’ چالیس سال ، پھر ساری زمین ( ہی ) تمہارے لیے مسجد ہے ، جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لو ۔ ‘ ‘
۰۳
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَىْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " .
یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ ہمیں ہشیم نے سیا ر سے خبر دی ، انہوں نے یزید الفقیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ، میرے لیے اموال غنیمت حلال قرار دیے گئے ، مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے ۔ میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور سجدہ گاہ بنایا گیا ، لہٰذا جس شخص کے لیے نماز کا وقت ہو جائے وہ جہاں بھی ہو ، وہیں نماز پڑھ لے ، اور مہینہ بھر کی مسافت سے دشمنوں پر طاری ہو جانے والے رعب سے میری نصرت کی گئی اور مجھے شفاعت ( کا منصب ) عطا کیا گیا ۔ ‘ ‘
۰۴
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے اسی سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فمرایا : ..... پھر اسی طرح بیان کیا ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلاَثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلاَئِكَةِ وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ " . وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى .
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم لوگوں كو اور لوگوں پر فضیلت ملی تین باتوں كی وجہ سے ہماری صفیں فرشتوں كی صفوں كی طرح كی گئی اور ہمارے لیے ساری زمین نماز كی جگہ ہے اور زمین كی خاك ہم كو پاك كرنے والی ہے جب پانی نہ ملے اور ایك بات اور بیان كی ۔
۰۶
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّاللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ " . وَقَالَ حَرْمَلَةُ " فَنَسِيتُهَا " .
۔ ابن ابی زائد نے ( ابو مالک ) سعد بن طارق ( اشجعی ) سے روایت کی ، کہا : مجھے ربعی بن حراش نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ......... آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۷
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " .
عبد الرحمان بن یعقوب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے دوسرے انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے : مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں ، ( دشمنوں پر ) رعب ودبدے کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے ، میرے لیے اموال غنیمت حلال کر دیے گئے ہیں ، زمین میرے لیے پاک کرنے اور مسجد قرار دی گئی ہے ، مجھے تمام مخلوق کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعے سے ( نبوت کو مکمل کر کے ) انبیاء ختم کر دیے گئے ہیں
۰۸
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۸
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، الْكِنْدِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، - وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ .
" أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ .
۔ یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے میری نصرت کی گئی ہے ، میں نیند کے عالم میں تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ تو ( اپنے رب کے پاس ) جا چکے ہیں اور تم ان ( خزانوں ) کو کھود کر نکال رہے ہو
۰۹
صحیح مسلم # ۵/۱۱۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ
" الْتَمِسُوا - وَقَالَ وَكِيعٌ - تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
" الْتَمِسُوا - وَقَالَ وَكِيعٌ - تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
۔ زبیدی نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہا تھے .... ( بقیہ ) یونس کی حدیث کے مانند ہے ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۰
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - وَهُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
" أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
معمر نے زہری سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ ( بن عبد الرحمن ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کیا ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۱
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَىَّ " .
۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے ۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ دشمن پر رعب طاری کر کے میرے مدد کی گئی ، مجھے جامع کلمات سے نوازا گیا اور میں نیند کے عالم میں تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور انہیں میرے ہاتھوں میں دے دیا گیا ۔ ‘ ‘
۱۲
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے ہمیں بیان کی ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جامع کلمات عنایت کیے گئے ہیں
۱۳
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ . قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فُسُوِّيَتْ - قَالَ - فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً - قَالَ - فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
۔ عبد الوارث بن سعید نے ہمیں ابو تیاح صبعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں اس قبیلے میں فروکش ہوئے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا اور وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا ، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا تو وہ لوگ ( پورے اہتمام سے ) تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : گویا میں رسول اللہﷺ کو آپ کی سواری پر دیکھ رہا ہوں ، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ کے ارد گرد ہیں یہاں تک کہ آپ نے سواری کا پالان ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( اس وقت تک ) رسول اللہﷺ کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا آپ وہیں نماز ادا کر لیتے تھے ۔ آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے ۔ پھر آپﷺ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : چنانچہ آپ نے بنو نجار کے لوگوں کی طرف پیغام بھیجا ، وہ حاضر ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے بنی نجار! مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت طے کرو ۔ ‘ ‘ انہوں نے جواب دیا : نہیں ، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس جگہ وہی کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں ، اس میں کجھوروں کے کچھ درخت ، مشرکوں کی چند قبریں اور ویرانہ تھا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے حکم دیا ، کجھوریں کاٹ دی گئیں ، مشرکوں کی قبریں اکھیڑی گئیں اور ویرانے کو ہموار کر دیا گیا ، اور لوگوں نے کجھوروں ( کے تنوں ) کو ایک قطار میں قبلے کی جانب گاڑ دیا اور دروازے کے ( طور پر ) دونوں جانب پتھر لگا دیے گئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور لوگ ( صحابہ ) رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور رسول اللہﷺ ان کے ساتھ تھے ، وہ کہتے تھے : اے اللہ! بے شک آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں ، اس لیے تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے ابوتیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ مسجد بنانے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ .
۔ ( معاذ کے بجائے ) خالد ، یعنی ابن حارث نے روایت کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابو تیاح سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ .... ( آگے ) سابقہ حدیث کے مانند ہے ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} فَنَزَلَتْ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَحَدَّثَهُمْ فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ .
ابو احوص نے ابو اسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرۃ کی آیت : ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے رخ کعبہ کی طرف کرو ۔ ‘ ‘ اتری ۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے تھے ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی ( یہ حکم سن ) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، وہ ( مسجد بنی حارثہ میں ، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا ) نماز پڑھ رہے تھے ، اس نے انہیں یہ ( حکم ) بتایا تو انہوں نے ( اثنائے نماز ہی میں ) اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ .
سفیان ( ثوری ) سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابو اسحاق نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ، پھر ہمارا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۸
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ . وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا . وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
۔ عبد العزیز بن مسلم اورمالک بن انس نے اپنی اپنی سندوں سے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ، اسی اثناء میں ان کے پاس آنے والا ایک شخص ( عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) آیا اور اس نے کہا : بلاشبہ رات ( گزشتہ دن کے آخری حصے میں ) رسول اللہ ﷺ پر قرآن اترا ۔ اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ کی طرف رخ کریں ، لہٰذا تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو ۔ ان کے رخ شام کی طرف تھے تو ( اسی وقت ) وہ سب کعبہ کی طرف گھوم گئے ۔ 1179 ۔ موسیٰ بن عقبہ نے نافع اور عبد اللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ، ان کے پاس ایک آدمی آیا .... باقی حدیث امام مالک کی ( سابقہ ) روایت کی طرح ہے ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۵/۱۱۷۹
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر یہ آیت : ’’ ہم آپ کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، ہم ضرور آپ کا رخ اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں ، لہٰذا آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے ۔ ‘ ‘ بنو سلمہ کا ایک آدمی ( عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) گزرا ، ( اس وقت ) لوگ ( مسجد قباء میں ) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے ، اس نے آواز دی : سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے ۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے اسی میں ( رکوع ہی کے عالم میں ) قبلے کی طرف پھر گئے ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ { قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَنَادَى أَلاَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ . فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر یہ آیت : ’’ ہم آپ کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، ہم ضرور آپ کا رخ اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں ، لہٰذا آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے ۔ ‘ ‘ بنو سلمہ کا ایک آدمی ( عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) گزرا ، ( اس وقت ) لوگ ( مسجد قباء میں ) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے ، اس نے آواز دی : سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے ۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے اسی میں ( رکوع ہی کے عالم میں ) قبلے کی طرف پھر گئے ۔
۲۱
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۱
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ - فِيهَا تَصَاوِيرُ - لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أُولَئِكِ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس گرجے کا تذکرہ ، جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں آویزاں تھیں ، کہا : ’’بلاشبہ وہ لوگ ( قدیم سے ایسے ہی تھے کہ ) جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے ۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔ ‘ ‘
۲۲
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
۔ وکیع نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کی کہ آپ کے مرض الموت میں لوگوں نے آپ کے سامنے آپس میں بات چیت کی تو ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا ..... پھر اسی کے مانند بیان کیا
۲۳
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
۔ ( یحییٰ اور وکیع کے بجائے ) ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ازواج نبی ﷺ نے ایک کنیسے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا ، اسے ( کنیسۂ ) ماریہ کہا جاتا تھا .... ( آگے ) ان ( پہلے راویوں ) کی حدیث کی طرح ہے ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . قَالَتْ فَلَوْلاَ ذَاكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَوْلاَ ذَاكَ لَمْ يَذْكُرْ قَالَتْ .
۔ ابوبکر ابی شیبہ او رعمرو ناقد نے کہا : ہم سے ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شیبان نے ہلال بن ابی حمید سے حدیث سنائی ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپ اٹھ نہ سکے ( جاں بر نہ ہوئے ) فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اس لیے اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو ظاہر رکھا جاتا لیکن یہ ڈر تھا کہ اسے مسجد بنا لیا جائے گا ۔ ( اس لیے اللہ کی مشیت سے وہ حجرہ مبارکہ میں بنائی گئی ۔ ) ابن ابی شیبہ کی روایت میں فلو لا کی جگہ ولو لا ( اور اگر ) کے الفاظ ہیں اور اس سے پہلے قالت ( انہوں نے کہا ) کا لفظ نہیں کہا
۲۵
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۵
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ " . فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ . يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ .
" وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ " . فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ . يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ .
سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ یہود کو ہلاک کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ ‘ ‘
۲۶
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۶
وَحَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
(سعید کے بجائے ) یزید بن اصم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔ ‘ ‘
۲۷
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۷
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالاَ لَمَّا نَزَلَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . يُحَذِّرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا .
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر ( وفات کے لمحے ) طاری ہوئے تو آپ اپنی ایک چادر اپنےچہرے پر ڈالتے تھے اور جب جی گھبراتا تو اسے چہرے سے ہٹا لیتے تھے ، آپ اسی حالت میں تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’ یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔ ‘ ‘ آپ ان جیسا عمل کرنے سے ڈرا رہے تھے ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۸
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا .
۔ حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبیﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا ، خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔ ‘ ‘
۲۹
صحیح مسلم # ۵/۱۱۸۹
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلاَنِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم . إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى - قَالَ بُكَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ - يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ - بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . وَقَالَ ابْنُ عِيسَى فِي رِوَايَتِهِ " مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
۔ ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ دونوں نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے ابن وہب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عمرو نے خبر دی کہ بکیر نے ان سے حدیث بیان کی ، انہیں عاصم بن عمر بن قتادہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبید اللہ خولانی سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ، جب رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی نئے سے سے تعمیر کے وقت لوگوں نے ان کے بارے میں باتیں کیں ، یہ کہتے سنا : تم نے بہت بتایں کی ہیں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ‘ ‘ بکیر نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ کہا : ’’ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔ ‘ ‘ احمد بن عیسیٰ نے اپنی روایت میں مثله في الجنة ’’جنت میں اس جیسا ( گھر ) ‘ ‘ کہا ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ " .
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کو نئے سرے سے تعمیر کرنا چاہا تو لوگوں نے اسے پسند نہ کیا ، ان کی خواہش تھی کہ وہ اسے اس کی حالت پر رہنے دیں ، اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس شخص نے اللہ کی خاطر کوئی مسجد بنائی ، اللہ اس کے لیے جنت میں اس جیسا ( گھر ) تعمیر کر ے گا ۔ ‘ ‘
۳۱
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۱
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ .
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے اسود اور علقمہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ پوچھنے لگے : جو ( حکمران اور ان کے ساتھ تاخیر سے نماز پڑھنے والے ان کے پیروکار ) تم سے پیچھے ہیں ، انہوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی : نہیں ۔ انہوں نے کہا : اٹھو اور نماز پڑھو ۔ انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کر دیا ۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے ، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ہلکا سا مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا ۔ انہوں نے جب نماز پڑھ لی تو کہا : یقیناً آیندہ تمہارے ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر یں گے اور ان کے اوقات کو مرنے والوں کو آخری جھلملاہٹ کی طرح تنگ کر دیں گے ۔ جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے یہ ( کام شروع ) کر لیا ہے تو تم ( ہر ) نماز اس وقت کے پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۔ اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ ﷺ کی ( ایک دوسری میں ) پیوستہ انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں ۔ اور ( انگلیاں پیوست کر کے ) انہیں دکھائیں ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۲
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ . بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَجَرِيرٍ فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَاكِعٌ .
یہ روایت بھی ایك دوسری سند سے اسی طرح مروی ہے سوائے ان الفاظ كے وَهُوَ رَاكِعٌ .
۳۳
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلاَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ قَالاَ نَعَمْ . فَقَامَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ رَكَعْنَا فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
۔ ( اعمش ےکے بجائے ) منصور ابراھیم سے اور انھوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے ہاں حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا : جو تمہارے پیچھے ہیں انھوں نے نماز پڑھ لی ؟دونوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر وہ دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ ان میں سےایک کو اپنی دائیں طرف اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف ( کھڑا ) کیا پھر ہم نےرکوع کیاتو ہم اپنے ہاتھ اپنے گٹھنوں پر رکھے ‘ انھو ں نے ہمارے ہاتھوں پر ( ہلکا سا ) مارا ‘ پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا ‘ جب نماز پڑھ چکے تو کہا : رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي قَالَ وَجَعَلْتُ يَدَىَّ بَيْنَ رُكْبَتَىَّ فَقَالَ لِي أَبِي اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ . قَالَ ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَضَرَبَ يَدَىَّ وَقَالَ إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ .
میں غالباً ابراھیم نخعی سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا ہے ۔ اسی لیے امام مسلم رضی اللہ عنہ مفصل اور صحیح روایت کو پہلے لائے ہیں ۔ بعض شارحین نے اسے متعدد واقعات پر بھی محمول کیا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
۳۵
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۵
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ حَرَامٌ قَالَ قَالَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ . فَقَالَ
" إِنَّا لاَ نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ " .
" إِنَّا لاَ نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ " .
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے اور انھوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : میں نےاپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گٹھنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے والد نے کہا : اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گٹھنوں پر رکھو ۔ انھوں ( مصعب ) نے کہا : میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا : ہمیں اس سے روک دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ ہم ہتھیلیاں گٹھنوں پر ٹکائیں ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ رَكَعْتُ فَقُلْتُ بِيَدَىَّ هَكَذَا - يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ - فَقَالَ أَبِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ .
ابو احوص اورسفیان نے ابو یعفور سے مذکورہ بالاسند کے ساتھ’’ہمیں روک دیا گیا ‘ ‘ تک حدیث بیان کی ہے ‘ ان دونوں نے اس کے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۷
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے ‘ انھوں نے زبیر بن عدی سے اور انھوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی ‘ کہا : میں نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کر لیا ‘ یعنی ان کو جوڑکر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا : ہم اسی طرح کیا کرتے تھے ‘ پھر ہمیں گھنٹوں ( پرہاتھ رکھنے ) کا حکم دیا گیا ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ قُلْنَا لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ . فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم .
حضرت طاوس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنھماسےدونوں پیروں پربیٹھنے کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے جواب دیا : یہ سنت ہے ۔ ہم نے ان سے عرض کی : ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان ( یا اگر را کی زیرکے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں ) پرزیاتی ہے ۔ ابن عباسﷺنے کہا : ( نہیں ) بلکہ یہ تمہارے بنی ﷺکی سنت ہے ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۵/۱۱۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ . فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ " . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلاَمِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالاً يَأْتُونَ الْكُهَّانَ . قَالَ " فَلاَ تَأْتِهِمْ " . قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ . قَالَ " ذَاكَ شَىْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ " . قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ " فَلاَ يَصُدَّنَّكُمْ " . قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ . قَالَ " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ " . قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَىَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُعْتِقُهَا قَالَ " ائْتِنِي بِهَا " . فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا " أَيْنَ اللَّهُ " . قَالَتْ فِي السَّمَاءِ . قَالَ " مَنْ أَنَا " . قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
ہم سے ابو جعفرمحمد بن صباح اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ‘ انھوں نے حجاج صوّاف سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ‘ انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ‘ انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑ ھ رہاتھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا : یرحمک اللہ’’اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ ‘ ‘ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : میری ماں مجھے گم پائے ‘ تم سب کو کیا ہو گیا؟ کہ مجھے گھور رہے ہو پھروہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے ۔ جب میں نے انھیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں ( تو مجھے عجیب لگا ) لیکن میں خاموش رہا ‘ جب رسو ل اللہ نماز سے فارغ ہوئے ‘ میرے ماں باپ آپ پرقربان !میں نے آپ سےپہلے اور آپکے بعدآپ سے بہتر کوئی معلم ( سکھانےوالا ) نہیں دیکھا!اللہ کی قسم !نہ تو آپنے مجھے ڈانٹا ‘ نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا ۔ آپنے فرمایا : ’’یہ نماز ہے اس میں کسی قسم کی گفتگو روانہیں ہے ‘ یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ۔ ‘ ‘ یا جیسے رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا ۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ !ابھی تھوڑا عرصہ پہلے جاہلیت میں تھا ‘ اور اللہ نے اسلام سے نوازدیا ہے ‘ ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں ( پیش گوئی کرنے والے ) کے پاس جاتے ہیں ۔ آپنے فرمایا : ’’تم ان کے پاس نہ جانا ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتےہیں ۔ آپن فرمایا : ’’یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں ( ایک طرح کا وہم ہے ) یہ ( وہم ) انھیں ( ان کے ) کسی کام سے نہ روکے ۔ ‘ ‘ ( محمد ) ابن صباح نے روایت کی : ’’یہ تمہیں کسی صورت ( اپنے کاموں سے ) نہ رزکے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچھنے ہیں ۔ ‘ ‘ آپنے فرمایا : ’’سابقہ انبیاء میں سے ایک بنی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں ‘ ‘ ( لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے ۔ ) ( معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریا چراتی تھی ‘ ایک دن میں اس طرف جاانکلاتو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا ۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں ‘ مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے ( مجھے صبر کرناچاہیے تھا ) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑجڑدیا اس کے بعد رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو اآپنے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی ( غلط ) حرکت قرار دیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !کیا میں اسے آزادنہ کردوں؟آپ نےفرمایا : ’’اسے میرےپاس لے آؤ ۔ ‘ ‘ میں اسے لےکر آپ کےپاس حاضر ہوا ، آپ نےاس سے پوچھا : ’’اللہ کہا ں ہے؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آسمان میں ۔ آپ نےپوچھا : ’’میں کون ہوں؟ ‘ ‘ اس نےکہا : آپ اللہ کےرسول ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’اسے آزاد کردو ، یہ مومنہ ہے
۴۰
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِي سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلاَةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا . فَقَالَ " إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغُلاً " .
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبدااللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کو ، جب آب نماز میں ہوتے تھے سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمار ے سلام کا جواب دیتے تھے جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے ، ہم نے آپ کو ( نماز میں ) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آ پ ہمیں جواب دیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ نماز میں ( اس کی اپنی ) مشغولیت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
۴۲
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
اعمش سے ( ابن فضیل کے بجائے ) ہریم بن سفیان نے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی
۴۳
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۳
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ .
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حارث بن شبیل سے ، انھوں نے ابوعمر و شیبانی سے اور انھوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کرلیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری ، ( وقوم للہ قنتین ) ’’ اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھٹرے ہو’’ تو ہمیں خاموش رہنے کاحاکم دیا گیا ہمیں گفتگوکرنے سے روک دیا گیا ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
(ہشیم کے بجائے ) عبداللہ بن نمیر ، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
۴۵
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " . وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
قتیبہ بن سیعد اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث ( بن سعد ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت ے لیے بیھجا ، پھر میں آپ کو آ کر ملا ، آپ سفر میں تھے قتیبہ نے کہا : آپ نے نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کہا ، آ پ نے مجھے اشارہ فرمایا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا : ‘ ‘ ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ اور اس وقت ( ساری پر نماز پڑھتے ہوئے ) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ - ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي هَكَذَا - فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ - وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " . قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ .
زہیر نے کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کا کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے ، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آٖپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشا رہ کیا ۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا ۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح ( اشارے سے کچھ ) کہا ۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا ۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں ، آپ ( رکوع و سجود کے لیے ) سر سے اشارہ فرماتے تھے ، جب آپ فارغ ہو ئے تو پوچھا ‘ ‘ جس کا م کے لیے میں بھیجا تھا تم نے ( اس کے بارے میں ) کیا کیا ؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’ زہیر نے کہا : ابو زبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ، ابو زبیر نےبنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انھوں ( ابوزبیر ) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا ( سواری پر نماز کے دوران میں آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا ۔)
۴۷
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
حماد بن زید نے کثیر ( بن شنظیر ) سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے ، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں واپس آبا تو اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا ، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا ، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا : ‘ ‘ تمھارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ’’
۴۸
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۸
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ . بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ .
عبدالوارث بن سعید نے کہا : ہمیں کثر بن شنظیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا .........آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۵/۱۲۰۹
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ يَأْمُرُهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ .
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو ’’ ( تو میں نے اسے چھوڑ دیا ) اور اللہ نے اس ( جن ) کو رسوا کر کے لوٹا دیا ۔ ’’ ابن منصور نے کہا : شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۵/۱۲۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ .
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ۔ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں شبابہ نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( ابن جعفر اور شبابہ ) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔ ابن جعفر کی روایت میں ‘ ‘ میں نے اس کا گلا گھونٹا ’’ کے الفاظ نہیں جبکہ ابن ابی شبیہ نے اپنی روایت میں کہا : ‘ ‘ میں نے اسے پیچھے دھکا دیا ۔ ’’