Hadith

اسلام میں روزہ کے بارے میں 7 مستند احادیث

S SehriTime April 4, 2026 1 min read ٤١ مشاهدة

روزہ — 7 hadith.

1. Musnad Ahmad #Ahmad 9789

لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السَّحُورَ

میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں۔

Abu Hurairah (RA) — Musnad Ahmad #Ahmad 9789 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Musnad Ahmad #Ahmad 7904

مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ كَسْبٍ حَلَالٍ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ

جس نے روزہ دار کو افطار کرایا اس پر رمضان میں فرشتے درود بھیجتے ہیں اور شب قدر میں جبریل علیہ السلام اس پر درود بھیجتے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) — Musnad Ahmad #Ahmad 7904 (Hasan)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Sunan an-Nasa'i #2297

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔

It was narrated that Hamzah bin 'Amr said — Sunan an-Nasa'i #2297 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Hadis Sambhar #1060

وَعَنْ زَيدِ بنِ ثَابِتٍ قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ قِيلَ : كَمْ كَانَ بَينَهُمَا ؟ قَالَ : قَدْرُ خَمْسِينَ آيةً متفقٌ عَلَيْهِ

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے اٹھے۔ عرض کیا گیا: ان کے درمیان کتنا عرصہ رہا؟ فرمایا: پچاس آیات کا اندازہ

Zayd Ibn Shabet (RA) — Hadis Sambhar #1060 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sahih Muslim #3642

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ - قَالَ - فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ نَخَسَهُ - أُرَاهُ قَالَ - بِشَىْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي حَتَّى إِنِّي لأَكُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَس

ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، اور میں ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر ( سوار ) تھا ۔ اور وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ تھا ۔ کہا : آپ نے اسے ۔ ۔ میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : اپنے پاس موجود کسی چیز سے ۔ ۔ مارا ، یا کہا : کچوکا لگایا ، کہا : اس کے بعد وہ لوگوں ( کے اونٹوں ) سے آگے نکلنے لگا ، وہ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا حتیٰ کہ مجھے اس کو روکنا پڑتا تھا ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ ص

— Sahih Muslim #3642 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sunan Abi Dawud #2353

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ ‏"‏ ‏.‏

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔

AbuHurayrah — Sunan Abi Dawud #2353 (Hasan)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Sunan Ibn Majah #3079

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}‏ ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ

عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے ؟ میں

It was narrated that ‘Abdullah bin Ma’qil said — Sunan Ibn Majah #3079 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#fasting #hadith #islam