صحیح مسلم — حدیث #۱۱۲۰۵

حدیث #۱۱۲۰۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ - قَالَ - فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ نَخَسَهُ - أُرَاهُ قَالَ - بِشَىْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي حَتَّى إِنِّي لأَكُفُّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ لِي ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُلاَعِبُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو نَضْرَةَ فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏.‏
ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، اور میں ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر ( سوار ) تھا ۔ اور وہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ تھا ۔ کہا : آپ نے اسے ۔ ۔ میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : اپنے پاس موجود کسی چیز سے ۔ ۔ مارا ، یا کہا : کچوکا لگایا ، کہا : اس کے بعد وہ لوگوں ( کے اونٹوں ) سے آگے نکلنے لگا ، وہ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا حتیٰ کہ مجھے اس کو روکنا پڑتا تھا ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم مجھے یہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف فرمائے! "" کہا : میں نے عرض کی ۔ اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے ۔ آپ نے ( دوبارہ ) پوچھا : "" کیا تم مجھے وہ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے! "" کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہے ۔ کہا : اور آپ نے مجھ سے ( یہ بھی ) پوچھا : "" کیا اپنے والد ( کی وفات ) کے بعد تم نے نکاح کر لیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : "" دوہاجو ( شوہر دیدہ ) سے یا دوشیزہ سے؟ "" میں نے عرض کی : دوہاجو سے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی ، وہ تمہارے ساتھ ہنستی کھیلتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی ، تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے؟ "" ابونضرہ نے کہا : یہ ایسا کلمہ تھا جسے مسلمان ( محاورتا ) کہتے تھے کہ ایسے ایسے کرو ، اللہ تمہارے گناہ بخش دے
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۷/۳۶۴۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۷: نکاح
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Mother #Death

متعلقہ احادیث