ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذِهِ " . فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ "
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ صلی الل
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشیر سے، حبیب بن سالم سے، نعمان بن بشیر سے اور اسی طرح کے لوگوں نے۔ انہوں نے کہا: اور سلمہ بن محبک کی سند کے باب میں۔ ابو عیسیٰ نے کہا کہ نعمان کی حدیث کی سند میں ابہام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے محمد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قتادہ نے نہیں سنا اس حدیث کو حبیب بن سلیم نے خالد بن عرفات کی سند سے روایت کیا ہے۔ قتادہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حبیب کو اس کے بارے میں لکھا تھا۔ ابن سالم۔ ابو بشر نے یہ بات حبیب ابن سالم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج میں تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں نے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک جیسے سورت بقرہ پڑھنے میں دیر ہوتی ہے پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک رکوع لمبا لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ هَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ
" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " .
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور قتیبہ بن سعید نے سفیان کی سند سے، الزہری کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے قاسم بن محمد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اپنے آپ کو ایک پردے سے ڈھانپ رکھا تھا جس میں مورتیاں تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو رنگ بدل گیا۔ اس کے چہرے پر پھر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب وہ لوگ ہوں گے جو خدا کی مخلوق کی مشابہت
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ أَفْلَحُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَقَالَ أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ فَقُلْتُ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي. فَقَالَتْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" صَدَقَ أَفْلَحُ، ائْذَنِي لَهُ ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حکم نے خبر دی، انہیں عراک بن مالک نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ) افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ( گھر میں آنے کی ) اجازت چاہی تو میں نے ان کو اجازت نہیں دی۔ وہ بولے کہ آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کا ( دودھ ) کا چچا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی ( وائل ) کی عورت نے آپ کو میرے بھائی کا ہی دودھ پلایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ب
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ ابو نضرہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع کا حکم دیا کر تے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا ، انھوں نے فرمایا : " میرے ہی ذریعے سے ( حج کی ) یہ حدیث پھیلی ہے ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جاکر ) حج تمتع کیا تھا ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خلیفہ بن کر ) کھڑے ہوئے ( بحیثیت خلیفہ خطب