مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۹۰۱
حدیث #۳۴۹۰۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ . فَقَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " . قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " لِكُفْرِهِنَّ " . قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ . قَالَ " وَيَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج میں تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں نے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک جیسے سورت بقرہ پڑھنے میں دیر ہوتی ہے پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک رکوع لمبا لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کم پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا تو فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے اور آفتاب روشن ہو گیا تھا پس فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے، نہیں گہن لگتا ان میں سے کسی کی زندگی اور موت سے جب تم ایسا دیکھو تو ذکر کرو اللہ کا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے کسی چیز کو لینے کے لئے پھر پیچھے ہٹ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس دیکھا میں نے جنت کو پس لینا چاہا میں نے اس میں سے ایک گچھا اگر میرے ہاتھ لگ جاتا تو تم اس میں سے کھایا کرتے جب تک دنیا باقی رہتی اور میں نے دیکھا جہنم کو ایسی ہو لناک اور ہیبت صورت کہ کبھی میں نے ایس صورت نہ دیکھی ہے نہ دیکھی تھی اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں صحابہ نے کہا کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کی نا شکری نے ان کو جہنم میں ڈالا کہا صحابہ نے کیا کفر کرتی تھیں ساتھ اللہ کے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کرتی ہیں یعنی نا شکری کرتی ہیں خاوند کی اور بھول جاتی ہیں احسان کو اگر کسی عورت کے ساتھ ساری عمر احسان کرو پھر کوئی رنج اس کو پہنچے تو کہنے لگتی ہے خاوند سے مجھے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پہنچی ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۲/۴۴۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: نماز کسوف