قرآن — 7 hadith.
1. Sahih Muslim #1429
اسود بن قیس نے شقیق بن عبہ سے ، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( اسی طرح ) پڑھتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) فضیل بن مرزوق کی ( سابقہ ) حدیث کی مانند ہے ۔
— Sahih Muslim #1429 (Sahih)
2. Bulugh al-Maram #742
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور ہم آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے۔ اسماء بنت عمیس کی ولادت ہوئی تو آپ نے فرمایا: غسل کرو اور کپڑے میں لپیٹ کر احرام باندھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر القصوٰۃ پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وہ صحرا میں آپ کے برابر ہو گیا۔ آپ نے اللہ کی وحدانیت کے اعلان سے آغاز کیا: "میں حاضر ہوں، اے معبود، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تیرا کوئی شریک
Jabir bin 'Abdullah (RAA) narrated, ‘The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj (on the 10th year of Hijrah), and we set out with him (to perform Hajj). When we reached Dhul-Hulaifah, Asma' bint 'Umais gave birth to Muhammad Ibn Abi Bakr. She sent a messag — Bulugh al-Maram #742 (Sahih)
3. Sahih Al-Bukhari #4725
ہم سے عبدااللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا نوف بکالی کہتا ہے ( جو کعب احبار کا رہیب تھا ) کہ جن موسیٰ کی خضر کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی وہ بنی اسرائیل کے ( رسول ) موسیٰ کے علاوہ دوسرے ہیں۔ ( یعنی موسیٰ بن میثا بن افراثیم بن یوسف بن یعقوب ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا دشمن خدا نے غلط کہا۔ مجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی
Sa'id bin Jubair — Sahih Al-Bukhari #4725 (Sahih)
4. Jami' at-Tirmidhi #3180
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان
'Aishah — Jami' at-Tirmidhi #3180 (Sahih)
5. Sahih Al-Bukhari #4726
ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریر نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے، دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی اور دیگر راوی کے مقابلہ میں بعض الفاظ زیادہ کہتا ہے اور ان کے علاوہ ایک اور صاحب نے بھی سعید بن جبیر سے سن کر بیان کیا کہ انہوں نے کہا ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کے گھر حاضر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دین کی باتیں مجھ سے کچھ پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعباس! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کوفہ میں
Ibn Juraij — Sahih Al-Bukhari #4726 (Sahih)
6. Mishkat al-Masabih #4554
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں کس چیز پر آتا ہوں، چاہے میں تریاق پیوں یا اس میں لگ جاؤں“۔ تعویذ کے طور پر، یا میں نے خود شعر سنایا۔" ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
‘Abdallah b. ‘Umar told that he heard God’s messenger say — Mishkat al-Masabih #4554 (Sahih)
7. Sahih Al-Bukhari #4653
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو جریر بن حازم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زبیر ابن خریت نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» کہ ”اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ تو مسلمانوں پر سخت گزرا کیونکہ اس آیت میں ان پر یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے
Ibn 'Abbas — Sahih Al-Bukhari #4653 (Sahih)
اہم نکات
مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں