صحیح مسلم — حدیث #۱۰۲۹۳

حدیث #۱۰۲۹۳
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولاً فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ - قَالَ - فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا ‏.‏ فَقَالَ إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا ‏.‏ - قَالَ - فَقُلْنَا لاَ بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا ‏.‏ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضى الله عنهما - قَالَ كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ - قَالَ - فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا - قَالَ - فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۳/۲۷۳۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: زکوٰۃ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Mother #Marriage #Quran

متعلقہ احادیث