صحیح مسلم — حدیث #۱۰۳۳۵
حدیث #۱۰۳۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى
مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ . قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ
مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ . وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ - قَالَ - فَأَتَيْتُ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ
يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالَ كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَوَقَعَ فِي نَفْسِي
مِمَّا قَالُوهُ شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقِي { إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} قَالَ ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ - قَالَ - فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ . وَقَوْلُهُ { كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ}
وَقَالَ كَانُوا رِجَالاً أَجْمَلَ شَىْءٍ .
ہشا م نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے آپس میں لیلۃالقدر کے بارے میں بات چیت کی ، پھر میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے ، میں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟وہ نکلے اور ان ( کے کندھوں ) پر دھاری دار چادر تھی ، میں نے ان سے پوچھا : ( کیا ) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہو ئے سنا ، تھا ؟ انھوں نے کہا : ہاںہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضا ن کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ہم بیسویں ( رات ) کی صبح کو ( اعتکاف سے ) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : " مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے بھلا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے تم اس کو آخریعشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں ( اس رات ) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس ( اعتکاف میں ) چلا جا ئے ۔ کہا : ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کو ئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا کہا : ایک بدلی آئی ہم پر بارش ہو ئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہ پڑی ۔ وہ کھجور کی شا خوں سے بنی ہو ئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے کہا : یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا ۔
راوی
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۳/۲۷۷۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: زکوٰۃ