صحیح مسلم — حدیث #۱۱۳۱۸
حدیث #۱۱۳۱۸
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ افْتَحْ " . وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} هَذِهِ الآيَاتُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ " . فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے او رمنہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے ( حد قذف کے ) اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالوگے ( قصاص میں ) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے قسم اﷲ کی میں جناب رسول اﷲ ﷺ سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا اس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤگے اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالوگے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے ( یہ بھی نہیں ہوسکتا ) جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ کھول دے ( اس مشکل کو ) اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری ۔ والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم ۔ اخیر تک پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اس کی جورو دونوں رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کرکے کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے خداتعالیٰ کی پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ نے فرمایا ٹھہر ( اوراگر خاوند کی بات سچ ہے تو تو اپنے قصور کا اقرار کر ) لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ نے فرمایا اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھرنگریالے بالوں والا پیدا ہوگا ( اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا ) ۔ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۹/۳۷۵۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۹: طلاق